خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 100
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 100 نی کرنے کی قوت قدسیہ ۶۶۹ ء حُزْنِهِ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ وَانْزِلُ عَلَيْهِ أَنْوَارَ رَحْمَتِكَ إِلَى الْأَبَدِ بركات الدعا روحانی خزائن جلد 4 صفحہ ۱۰-۱۱) آپ نے بے شمار آسمان ہدایت کے ستارے پیدا کئے اور آپ کے وصال کے بعد بھی یہ آپ کا غیر فانی نورزندہ رہا اور ہر صدی کے سر پر تاریک راتوں میں ضیاء پاشی کرتا رہا۔پھر وہ پورن ماشی کا چاند بھی آپ ہی کی قوت قدسیہ سے وجود میں آیا جس نے چودھویں صدی کے سر پر طلوع ہونا تھا اور اپنے آقا کے نور کی چادر اوڑھے ہوئے ایک دفعہ پھر دنیا کی ظلمتوں کو اجالوں میں تبدیل کرنے لگا۔آپ کی سانسوں کی برکت سے وہ مہدی آیا، وہ مسیح الزمان پیدا ہوا جس نے ایک عالم کے مردوں کو چلا دینی تھی اور مرتی ہوئی انسانیت کو حیات نو کا پیغام سنانا تھا۔وہ جس کے وجود کے ساتھ اسلام کا ادیان باطلہ پر غالب آجانا مقدر ہو چکا تھا۔وہ آیا اور آپ ہی کے دم قدم کی برکت سے آیا۔وہ شاہد آیا جس کے وجود کا ایک ایک ذرہ اس بات پر گواہ تھا کہ اس نے جو کچھ پایا محمد عربی ہے کے فیض سے پایا۔وہ آیا اور اپنے محبوب آقا کے حسن و احسان کے گیت گا تا ہوا آیا۔اس کے عشق ومحبت کے گیتوں میں ایک عجیب رس تھا اور وہ انوکھے سروں میں اپنے نفس کو مٹا کر اپنے محبوب کی بڑائی بیان کرتا رہا۔اس کے گیت کچھ اس انداز کے تھے کہ ملائک بھی اس کے ہمنوا ہوئے اور فضا اس نغمہ عشق اور اس جیسے سینکڑوں نغمات عشق سے بھر گئی کہ : وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا نام اس کا ہے محمد دلبر میرا یہی ہے وہ آج شاہ دیں ہے وہ تاج مرسلین ہے وہ طیب وامیں ہے اس کی شناء یہی ہے سب ہم نے اس سے پایا شاہد ہے تو خدایا وہ جس نے حق دکھا یا وہ مہ لقاء یہی ہے اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے ( قادیان کے آریہ اور ہم ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه : ۴۵۶)