خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 90 of 660

خطابات نور — Page 90

ہے۔اگر خود نہیںپڑھ سکتا تو اس شخص کی خوشامد اور منّت کی جاتی ہے جو اس کو پڑھ دے۔پھر صرف ایک مرتبہ ہی پڑھ لینے پر صبر نہیں آتا بلکہ حتی الوسع دو دو تین تین مرتبہ اس کو پڑھا اور سنایا جاتا ہے اور اس کے بعد سب سے پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ اس کی تعمیل کی جاوے نہ یہ کہ اس کو عمدہ طور پر سنبھال کر رکھ لیا جاوے اور اس امر کی کچھ پرواہ نہ کی جاوے کہ اس کی تعمیل بھی کرنی ہے۔یہ ایک فطرتی امر ہے جو ہرانسان میں پایا جا تا ہے اور تم میں سے ہر ایک اس کا تجربہ کار ہوگا۔ایسے موقع پر کبھی یہ بھی دیکھا نہیںجاتا کہ کوئی مجبوری یا مشکل درپیش ہے بلکہ جس قدر جلد ممکن ہوسکتا ہے اس کے تعمیل کرنے کی فکر ہوتی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ جب ولائتی ڈاک کے آنے کا دن ہوتا ہے تو انگریز ڈاکخانوںمیںبڑی تیزی اور سرعت اور بیقراری کے ساتھ دوڑے جاتے ہیں اس لئے کہ وہ اس ڈاک میں اپنے عزیز رشتہ دار یا کسی اور دوست کے خط کے متوقع ہوتے ہیںاور پھر اسی ڈاک میں ان کو جواب دینا ہوتا ہے جو ولایت کو جانے والی ہوتی ہے یہ تیزی یہ اضطراب ان میں کیوں ہوتا ہے؟اس لئے کہ ان کی فطرت میں یہ ایک طبعی جوش ہوتا ہے جو ان پر اتمام حجت کرتا ہے۔پھر تعجب اور حیرت کی بات ہے کہ ایک معمولی دوست اوررشتہ دارکے خط کی تعمیل کے لئے اس میں اس قدر جوش ہو مگر خدا تعالیٰ کی کتاب احکم الحاکمین کی پاک کتاب کی تعمیل کے لئے وہ جوش اور اخلاص نہ ہو؟ ۱؎ پھر اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی اس پاک کتاب کے پہنچانے میں کیا کیا مصائب اور مشکلات برداشت کیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک لائف پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس پاک کلام کو لوگوں تک پہنچا دینے میں اپنی جان تک کی پروا نہیں کی۔مکی زندگی جن مشکلات کا مجموعہ ہے وہ سب کی سب اسی ایک فرض کے ادا کرنے کی وجہ سے آپ کو برداشت کرنی پڑی ہیں۔لکھا ہے کہ جب مکہ کے شریروں اور کفار نے آپ کے پیغام کو نہ سنا تو آپ طائف تشریف لے گئے اس خیال سے کہ ان کو سنائیں اور شاید ان میں کوئی رشید اور سعید ایسا ہو جو اس کو سن لے اور اس پر عملدرآمد کرنے کو تیار ہوجائے۔جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام طائف پہنچے تو آپ نے وہاں کے عمائد سے فرمایا کہ تم میری ایک بات سنو۔لیکن ان شریروں قسی القلب لوگوں نے آپ کا پیچھا کیا اور نہایت سختی کے ساتھ آپ کو ردّ کردیا۔اینٹیں اور