خطابات نور — Page 89
آپ کی پاک لائف کا کوئی گواہ نہ تھا۔حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس سوال کا کیا لطیف جواب دیا۔کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنَ (مسلم کتاب الصلوٰۃ باب جامع صلوٰۃ اللیل)یعنی قرآن شریف ایک علم ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے عامل ہیں۔گویا یہی آپ کی لائف ہے۔اسی طرح پر میری رائے نے فیصلہ کرلیا ہے کہ قرآن شریف سے بڑھ کر کوئی کتاب قابل مطالعہ نہیں۔کیونکہ ساری دنیا اور مخلوق پر اس نسخہ کا تجربہ ہوچکا ہے اور اس کے طبیب (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خوبیاں اور کمالات ظاہر ہوچکے ہیں۔پھر اس کے بعد اور کیا باقی رہ سکتا ہے۔(یونس :۳۳) حق کے بعد بجز ہلاکت اور گمراہی کے اور کیا ہوسکتا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم اسی پاک کتاب کو اپنا محبوب بنائیں اور دنیا کی ساری کتابوں کو اس پر نثار کردیں۔لیکن ایک بات اور یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن شریف کے ساتھ عشق و محبت کے اتنے ہی معنے نہیں ہیں کہ ایک عمدہ قرآن شریف لے کر اس کی سونے کی جدول بنوا کر اور عمدہ جلد کراکے ایک ریشمی غلاف میں بند کرکے ایک کھونٹی کے ساتھ لٹکا دیا اور کبھی اسے کھول کر بھی نہ دیکھا کہ اس میں کیا لکھا ہے؟ یا اگر کھول کر دیکھا بھی تو اس کی غرض صرف اس قدر سمجھ لی کہ اس کی معمولی تلاوت کافی ہے۔اگر کوئی شخص اسی قدر سمجھتا ہے تو وہ سخت غلطی کھاتا ہے اور وہ قرآن شریف کی عزت و عظمت کاحق ادا نہیں کرتا اور نہ اس کی تلاوت کے اصل مقصد کو پاتا ہے یاد رکھو کہ تلاوت کا اصل مقصد قرآن شریف پر عمل کرنا ہے۔اگر کوئی عمل نہیں کرتا اور عمل درآمد کے واسطے اسے نہیں پڑھتا تو اسے کچھ بھی فائدہ اس تعظیم سے نہیں ہوگا۔دیکھو کوئی انسان جس کے پاس حاکم وقت کا کوئی پروا نہ آئے تو کیا اگر وہ اسے زرّافشاں کا غذوں پر لکھ کر رکھ چھوڑے اور اس کی تعمیل نہ کرے تو وہ حاکم محض اس وجہ سے کہ اس کاغذ کی اتنی عزت کی وہ اس سے باز پرس نہ کرے گا؟ ضرور کرے گا اور اس تعظیم کے ساتھ قانونی سلوک کیا جاوے گا اور اس کے اس عذر پر کہ میں نے تو اس کوزرّا فشاں کاغذ پر لکھ کر رکھا ہوا ہے۔اسے پاگل خانے میں بھیج دینے کے قابل سمجھا جاوے گا۔پھر اس سے اتر کر اپنے احباب متعلقین اور رفقاء کے خطوط پر نظر کرو۔ایک دوست کا خط آتا ہے تو کس بے صبر ی اورغور کے سا تھ اس کو پڑھنے کی کوشش کی جاتی