خطابات نور — Page 91
پتھر مارتے جاتے تھے اور آپ آگے آگے دوڑتے جارہے تھے۔یہاں تک کہ آپ بارہ کوس تک بھاگے چلے آئے اور پتھروں سے آپ زخمی ہوگئے۔ان تکالیف اور مصائب کو آپ نے کیوں برداشت کیا؟ آپ خاموش ہوکر اپنی زندگی آرام سے گزار سکتے تھے پھر وہ بات کیا تھی جس نے آپ کو اس امر پر آمادہ کردیا کہ خواہ مصیبتوں کے کتنے ہی پہاڑ کیوں نہ ٹوٹ پڑیں لیکن امر الٰہی کے پہنچانے میں آپ تساہل نہ فرمائیں گے۔قرآن شریف سے ہی اس کا پتہ چلتا ہے آپ کو حکم ہوا تھا (المائدۃ :۶۸) جو کچھ تیری طرف نازل کیا گیا ہے اسے مخلوق الٰہی کو پہنچا دے اور (الحجر:۹۵) جوتجھے حکم دیا جاتا ہے اس کو کھول کھول کر سنادے۔اس پاک حکم کی تعمیل آپ کا مقصود خاطر تھا اور اس کے لئے آپ ہر ایک آفت اور مصیبت کو بہزار جان برداشت کرنے کو آمادہ تھے۔پھر قرآن شریف کے تو تیس سیپارے ہیں اور ان میں ہزاروں ہزار مضامین ہیں جن کو پہنچانا آپ کا ہی کام تھا۔اگر اللہ تعالیٰ کی تائید شامل حال نہ ہو اور اس کی نصرت ساتھ نہ ہو تو پشت شکن امور پیش آجاتے ہیں۔اس زمانہ میں ہی دیکھ لو کہ ایک تو فّی کے امر کو پیش کرنے میں کس قدر دقتیں اندرونی اور بیرونی لوگوں کی طرف سے پیش آرہی ہیں اور کیا کیا منصوبے اور تجویزیں مخالفوں کی طرف سے آئے دن ہوتی رہتی ہیں۔اور وہ شخص جو مسیح موعود کے نام سے آیا ہے اور اس پیغام کو پہنچانا چاہتا ہے وہ بھی بالمقابل ان کی تکلیفوں اور اذیتوں کی کچھ پروا نہیں کرتا وہ تھکتا اور ماندہ نہیں ہوتا۔اس کا قدم آگے ہی آگے پڑتا ہے اور اس مضمون کے پہنچانے میں کوئی سستی نہیں کرتا۔کوئی ذکر ہو اندر ہو باہر ہو آخر اس کے کلام میں یہ بحث ضرور آجاتی ہے اور پھر مخالفوں کی کوششیں ادھر اس کی مساعی جمیلہ اس پر دعائیں کرتا ہے۔کتابیں لکھتا ہے تقریریں کرتا ہے غرض کیا ہے؟ (اٰل عمران :۵۶) کے حقیقی معنے لوگوں کے ذہن نشین ہوجائیں کیوں؟ اس موت سے خدا تعالیٰ کی زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات اسلام کی زندگی اور قرآن کریم کی زندگی ثابت ہوتی ہے اور یہ قرآن شریف کی اعلیٰ درجہ کی خدمت ہے۔غرض قرآن شریف وہ پاک اور مجید کتاب ہے جس کی اشاعت اور تبلیغ کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کو وہ محنت کرنی پڑی اور آج اس زمانہ کے امام اور خاتم الخلفاء کو وہ تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔پھر اس سے اصل غرض یہی ہے کہ قرآن شریف کا حقیقی علم پیدا ہو اور اس پر عمل کیا جائے۔