خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 72 of 660

خطابات نور — Page 72

ہے۔ایک شخص استطاعت حج کی نہیں رکھتا۔حج نہ کرنے سے اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اسی طرح پر تفقّہ فی الدین کی بھی مختلف صورتیں ہیں ہر شخص اتنا وقت اور فراغت نہیں رکھتا کہ وہ اس کام میں لگا رہے۔دنیا میں تقسیم محنت کا اصول صاف طور پر ہدایت دیتا ہے کہ مختلف اشخاص مختلف کام کریں۔انسان کی تمدنی زندگی کی ضروریات کا تکفّل ہوگا۔اسی طرح اسی اصول کی بنا پر حکم ہوا کہ (التوبۃ :۱۲۲)۔یعنی یہ امر تو ہو ہی نہیں سکتا کہ کل مومن علوم حقہ کی تعلیم اور اشاعت میں نکل کھڑے ہوں۔اس لئے ایسا ہونا چاہئے کہ ہر طبقہ اور گروہ میں سے ایک ایک آدمی ایسا ہو جو علوم دین حاصل کرے اور پھر اپنی قوم میں واپس جاکر ان کو حقائق دین سے آگاہ کرے تاکہ ان میں خوف و خشیت پیدا ہو۔میں افسوس اور درد دل کے ساتھ کہتا ہوں کہ عملی رنگ میں اس آیت کو منسوخ کردیا گیا ہے۔حقیقت میں ایسا ہی ہوا ہے۔علم کی غرض و غایت کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت پیدا ہو جس خوف سے خدا تعالیٰ کی معرفت بڑھتی ہے اور انسان گناہوں اور بدیوں سے بچتا ہے۔یہ بات خیالی نہیں یقینی اور نیچرل ہے۔دیکھو تم کیوں خون کرنے سے ڈرتے ہو؟ صرف اس لئے کہ تعزیزات ہند ڈراتی ہے اور اس کی سزا تمہارے دل پر ایک خاص اثر ڈال کر ایسی حرکات سے بچاتی ہے۔یہ طریقے دراصل بدیوں سے بچنے کے عارضی اور ظلی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قانون مجریہ وقت کے ہوتے ہوئے بھی باوجود یکہ مجرموں کو سزا ملتے ہوئے بھی دیکھتے ہیں۔من ُکل الوجوہ جرائم کا دروازہ بند نہیں ہوتا اور اس کی وجہ یہی ہے کہ حقیقی طور پر یہ دروازہ اللہ تعالیٰ کے خوف اور خشیت سے بند ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ علماء ربانی اور ماموروں کی زندگی میں یہ نمونہ بدیوں کا نہ ملے گا بلکہ ان کی زندگی پاک اور بے لوث ہوگی وہ اس لئے بدیوں سے نہیں بچتے کہ وہ تعزیرات ملک سے ڈرتے ہیں بلکہ وہ تعزیرات خدا سے ڈرتے ہیں او روہ خوف ان کے نفسانی قویٰ پر غلبہ پاکر اس مادہ کو بھسم کردیتا ہے جو بے اعتدالی کا جوش نفس سے پیدا ہوسکتا ہے۔پس حقیقی طور سے گناہ سے بچنے کا طریق خوف خدا کا دل پر مستولی ہونا ہے۔ایک اور بھی راہ ہے جس سے انسان گناہ سے بچ سکتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے حسن پر اطلاع