خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 73 of 660

خطابات نور — Page 73

ہے۔جب پوری معرفت اور بصیرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے جمال کو دیکھتا ہے تو اس حسن کے بالمقابل تمام لذّات اسے ہیچ اور فانی نظر آتی ہیں اور ساری خوشیوں اور راحتوں کو اسی صاحب الحسن کی اطاعت میں پاتا ہے۔یہ مقام اعلیٰ درجہ کے انسانوں کا ہوتا ہے مگر ایک طبقہ انسانوں کا ایسا بھی ہے جو خوف الٰہی بھی ان کو گناہوں سے بچا لیتا ہے اور یہ خوف علوم حقہ میں تفقّہ کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔اسی لئے علماء ربّانی کی شان میں کہا گیا ہے۔(فاطر : ۲۹) مگر آج اس زمانہ میں عالم کے یہ معنی سمجھے گئے ہیں کہ کج بحثیاں کرنے میں طاق ہو۔کبھی کسی بات کے ماننے کے لئے تیار نہ ہو جو منہ سے نکل جاوے خواہ وہ کیسا ہی بیہودہ اور لغو ہو اس کی تائید میں قرآن شریف میں تحریف کرنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر افترا کرنے سے بھی نہ ڈرے۔خدا تعالیٰ مجھ کو اور میرے بھائیوں کو ایسے علم سے بچائے۔آمین حضرت امام نے ایک الہامی قصیدہ لکھا ہے۔اس کا یہ شعر کیسا سچا ہے۔علم آں بود کہ نور فراست رفیق اوست ایں علم تیرہ را بہ پشیزے نمے خرم تم علم پڑھو لیکن اگر اس علم سے خدا کا خوف اور خشیت پیدا نہیں ہوتی تو استغفار اور لاحول پڑھو کہ وہ علم حجاب اکبر ہوکر ہلاکت کا موجب نہ ہوجاوے۔میں نے بڑے بڑے مولوی اور عالم کہلانے والے دیکھے ہیں۔اس وقت موجود ہیں اور تم میں سے اکثر اس سے ناواقف نہیں کہ وہ چیز جو ان کی راہ میں امام وقت کی اطاعت میں ٹھوکر کا پتھر ہوئی وہ وہی ان کا علمی ناز اور گھمنڈ تھا۔اگر وہ حقیقی علوم کے وارث ہوتے تو ان میں خشیت اور خوف پیدا ہوتا ان کے دل یہ سن کر ڈرجاتے کہ سنانے والا کہتا ہے۔میں خدا کا مامور ہوں۔یہ چھوٹی سی بات نہ تھی خدا کے بھیجے ہوئے سے مقابلہ!!! میں سچ کہتا ہوں کہ یہ خدا کا فضل ہے جس کو میں بیان کرتا ہوں کہ میرا دل اس تصور سے بھی کانپ جاتا ہے کہ انکار کے لئے کیوں جرأت کرتے ہیں؟ مگر مشکل یہ ہے کہ وہ علم نور فراست ساتھ ہی نہ رکھتا اس سے بہتر تھا کہ وہ جاہل رہتے ایک اور بات قابل عذر ہے کہ عالم ربّانی بننے کے لئے شرط ہے۔تقویٰ اللہ کی بدون اس کے علوم حقہ کی کلید مل سکتی ہی نہیں کیونکہ خود خدا تعالیٰ فیصلہ کر چکا ہے