خطابات نور — Page 71
یعنی اور نہ وہ اللہ کی راہ میں کوئی ہو ایسا تھوڑا یا بہت مال خرچ کریں گے اور نہ کوئی میدان طے کریں گے مگر یہ کہ ان کے واسطے اس خرچ اور سفر کی جزا لکھی جاوے گی تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں اس اچھے کام کا بدلہ دے جو وہ کرتے تھے۔اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مامورین کے وقت سفروں کی ضرورت بھی پیش آتی ہے اور خدا کے لئے کوئی نہ کوئی سفر قوم کے بعض یا کل افراد کو کرنا پڑتا ہے۔پس وہ سفر بجائے خود اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین جزا کا موجب اور باعث ہوتا ہے۔غرض اس میں انفاق کی فضیلت بیان کرکے اس دوسری آیت میں جو تفقّہ فی الدین کے لئے ایک جماعت کے نکلنے کی ہدایت کرتی ہے۔انفاق کی ضرورت بیان کی گئی۔۱۰؎ تفقّہ فی الدینکے لئے خاص جماعت ہو: عام طور پر ُکل انسان ایک امام کے حضور جمع نہیں ہوسکتے ُکل دنیا نہ تو متفق ہی ہو سکتی ہے نہ وہ ایک جگہ جمع ہوسکتی ہے۔ملک کی طبعی تقسیم اور پھر ُکل دنیا کی طبعی تقسیم اس امر کی شاہد ہے۔اس عام نظارہ قدرت کے ہوتے ہوئے یہ کہنا کہ سب کے سب امام کے حضور جمع رہو اور ہر وقت حاضر رہو قریباً تکلیف مالایطاق ہوجاتی جو اللہ تعالیٰ نے نہیں رکھی۔یہ فخر عیسائیوں کو بے شک ہے کہ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کو ایسی شریعت ملی ہے جس کو کوئی انسان بجا لاسکتا ہی نہیں۔اگرچہ تعجب ہے کہ پھر وہ شریعت کا نزول ہی کیوں مانتے ہیں سرے سے کہہ دیتے شریعت آئی ہی نہیں اور نہ اس کی کوئی ضرورت تھی کیونکہ انسان اس کی بجاآوری اور تعمیل سے قاصر ہے لیکن اسلام ہاں! پاک و بے عیب اسلام ایسی شرمناک اور قابل مضحکہ بات کو روا نہیں رکھتا وہ (البقرۃ : ۲۸۷) کی پاک ہدایت دیتا ہے۔پھر میں کیوں ایک طرفۃ العین کے لئے بھی یہ روا رکھوں کہ اسلام میں کوئی حکم ایسابھی ہے جس کی تعمیل ناممکن ہے۔یہ خوبی اور عظمت اسلام کی ہی ہے کہ اس کے جمیع احکام اس قسم کے ہیں کہ ہر ایک انسان ان سے اپنی استطاعت و طاقت کے موافق اپنی حالت اور حیثیت کے لحاظ سے یکساں فائدہ اٹھا سکتا ہے۔مثلاً ایک شخص ہے وہ بیمار ہے اٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتا وہ بیٹھ کر حتیٰ کہ اشاروں سے بھی پڑھ سکتا ہے۔اس کا ثواب ایک مستعد تندرست آدمی کی نماز سے کم نہیں ہوگا نہ اس نماز میں کوئی سقم واقع ہوسکتا