خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 70 of 660

خطابات نور — Page 70

اتقا اور صحبت صادق: اب ایک اور امر ہے جو قرآن شریف سے ثابت ہے اور جس کی طرف بڑی توجہ دلائی گئی ہے وہ کیا ہے؟ متقی بننا اور صادقوں کا ساتھ دینا ہے۔حقیقت میں تقویٰ کی اصل روح انسان کے اندر پیدا نہیں ہوتی جب تک کہ صادقوں کی صحبت میں نہ رہے۔صادق کی پاک صحبت اندر ہی اندر ایک خاص اثر انسان کی روح پر کرتی ہے اور اس کے امراض روحانی کا مداوا اس کی پاک توجہ، عقد ہمت، دعا اور موثر وعظ و نصائح جو وقتاً فوقتاً درد دل سے کرتا ہے اور وہ نشانات و خوارق جو وقتاً فوقتاً اللہ تعالیٰ اس کی تائید اور نصرت کے لئے نازل فرماتا ہے ایمان کو قوی کرتے ہیں اور جب ایمان کامل ہونے لگتا ہے تو گناہوں کی زندگی پر موت آکر ایک نئی زندگی اسے عطا ہوتی ہے جس میں تقویٰ کے خواص اور آثار پائے جاتے ہیں۔لیکن انسان کی ضرورتیں‘ اس کی کم نظریاں‘ انعامات الٰہیہ کی وسعت سے بے خبری‘ اس کی ذاتی کمزوریاں اور بشری تقاضے بعض اوقات ایسا کرتے ہیں کہ ہر وقت وہ ماموروں کی صحبت میں نہیں رہ سکتا اور وہ فیض اور فضل جو ان کی پاک صحبت میں ملتا ہے وہ اسے ان شرائط اور لوازمات کے ساتھ جو خاص صحبت ہی سے مختص ہیں نہیں پاسکتا اس لئے ایک اور ضرورت پیش آئی وہ ضرورت ہے تفقّہ فی الدین کی۔تفقّہ فی الدین: تفقہ فی الدین کے لئے پھر یہ حکم صادر ہوا۔ (التوبۃ :۱۲۲)۔یعنی چونکہ یہ تو ممکن نہیں ہے اور نہ مناسب ہی ہے کہ سب کے سب مسلمان یک دفعہ ہی نکل جاویں۔اس لئے کیوں ہر گروہ سے ایک جماعت اس مقصد اور غرض کے لئے نہ نکلے کہ تَفَقّہ فِی الدِّیْنِ کرے اور جب وہ اپنی قوم کے پاس لوٹ کر واپس آئیں تو اپنی قوم کو ڈرائیں تاکہ وہ قوم بُری باتوں سے بچے۔اس آیت سے پہلی آیت میں انفاق کے فضائل بیان ہوئے ہیں۔اس واسطے کہ اس آیت میں جو ابھی میں نے پڑھی ہے۔انفاق کی ایک ضرورت بھی پیش ہوئی ہے۔اس سے پہلی آیت یہ ہے۔ (التوبۃ :۱۲۱)۔