خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 591 of 660

خطابات نور — Page 591

دری ، کالڈی ، چین وغیرہ السنہ سے لینی پڑتیں اور ان میں ان کے مفسرین کے غلط خیالات کو الگ کرنا پڑتا تو کیسا مشکل بلکہ محال کام ہوتا پھر اگر کوئی ایسا جان باز ہوتا بھی اور وہ شب و روز کی محنتوں سے کسی حد تک پہنچ بھی جاتا تو اس کو دوسروں کے تسلیم کرانے میں کتنی دقتیں ہوتیں تامّل کرو !جو کچھ کھیتیوں میں سے ہم لاتے ہیں جو لطیف دودھ خون و گوبر کے درمیان سے چار پایوں کی وساطت سے ہمیں ملتا ہے جو لطیف لطیف میوے راحت بخش میوے ہم باغوں سے لاتے ہیں اور وہ نہایت صحت بخش چیز جو شہد کی مکھی کی وساطت سے ہمیں ملتی ہے اگرہم اپنی کیمسٹری آلات کے ذریعہ لینا چاہتے تو کتنی مشقت، پھر غلطی و نافہمی میں مبتلا ہوتے۔اللہ تعالیٰ نے تمام تعلیمات کو قرآن میں یکجا جمع کر دیا ہے اور ہمیں مختلف السنہ اور اقسام اقسام کی کتب کے جابجا ایک آسان کتاب پڑھ لینا کافی ہے۔الحمد للّٰہ۔اب ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ کوئی روحانی صداقت قرآن سے باہر نہیں اسی ضرورت کی طرف قرآن شریف اشارہ فرماتا ہے۔(دیکھو پارہ ۱۴ سورۂ نحل رکوع ۱۴)اور اس کے علاوہ (المائدۃ:۴۹)اور فرمایا۔(۲)(البینۃ:۲تا ۴) چھٹی ضرورت : جس میں سوال کے اس حصہ کا جواب بھی ہے کہ قرآن میں کیا ایسی صداقتیں بھی ہیں جو مادر کتب میں موجود تھیں۔صداقتیں راستباز یاں قرآن کریم سے پہلے بھی دنیا کی مختلف اقوام کے پاس موجود تھیں گو محرف و مخلوط ہی کیوں نہ ہوں مگر پھر بھی وہ صداقتیں صرف دعوے ہی تھے جن کی عوام کو حاجت تھی۔علی العموم سابقہ کتب میں ان دعووں کے دلائل موجود نہ تھے اگر کچھ ان دعووں کے دلائل تھے بھی تو پہلی کتابوں میں آنے والے باطلہ مذاہب کی تردید میںمدلل گفتگو کا سامان بخلاف قرآن کے موجود نہ تھا بلکہ یونہی کہئے کہ قرآن ایسی صداقتوں کی جامع کتاب نازل ہوا ہے جس کی جمعیت کے سامنے کسی نئی اور پرانی پستک کو