خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 592 of 660

خطابات نور — Page 592

مقابلہ کی تاب نہیں۔میں نے کئی دفعہ تمدن کے ایک ضروری مسئلہ نکاح پر عیسائیوں، سکھوں ، ہندوئوں سے سوال کیا کہ کس رشتہ میں نکاح کی ممانعت ہے اس ممانعت پر کوئی خاص قول جناب سیدنا مسیح ؑ کا یا اس کے رسول بنانے والے کا اپنی کامل کتاب انجیل سے پیش کرو۔گورونانک جی کے گرنتھ صاحب سے بتائو۔وید کی خالص شرتی سے یا شرتی کے خاص ملہموں کے اقوال سے دکھائو کسی نے بھی آج تک تو کوئی نشان بھی نہیں دکھایا جب ایسے ضروری مسائل پر بھی بحث نہیں تو ہماری کل روحانی ضرورتوں کو کیونکر یہ کتابیں پورا کر سکتی ہیں اور اگر ایسے مسائل میں جن کا ذکر اوپر گزرا برہموئوں یا نیچرلسٹ لوگوں کے قواعد سے کام لینا ہے۔تو اپنی کتاب کے کامل ہونے کا دعویٰ مت کرو۔غرض اگر صداقتوں کا یکجا جمع ہونا اور ان کا مدلل ہونا عقلاء کے نزدیک کوئی ضروری امر ہے اور ہے تو قرآن کریم کا نازل ہونا بھی ضروری ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ موجود ہے ایک ضروری مسئلہ ہے جس پر قرآن نے یہ دلیل دی ہے۔(آل عمران:۱۹۱) اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں۔ایک دوسرا مسئلہ ہے اس پر قرآن فرماتا ہے:۔ہے:۔(الانبیاء:۲۳) قرآن کی کلامِ الٰہی ہونے کی دلیل، فرماتا ہے :۔(البقرۃ:۲۴)اور فرماتا ہے:۔(بنی اسرائیل:۸۹)اور فرمایا ہے :۔(النساء:۸۳)یاد رہے ،اختلاف دو قسم کا ہوا کرتا ہے۔اوّل یہ کہ ایک آیت دوسری آیت کے خلاف ہو۔دوم یہ کہ کوئی قرآنی مضمون نیچرل فلسفی یا کسی سچے علوم کے خلاف ہو۔قرآن میں ہر دو قسم میں سے کسی قسم کا اختلاف نہیں اس تیرہ سو برس میں نیچرل فلسفی کی کتنی سر توڑ ترقی ہوئی مگر کچھ بھی قرآنی بیان کی غلطی ثابت نہ ہو سکی۔ہاںعامہ قرآنی دلائل کو تو عامہ علماء اسلام اور متکلمین ملۃ خیر الانام علیہ وآلہٖ الصلوٰ ۃ والسلام بیان کرتے رہے اور کرتے ہیں اور کریں گے مگر