خطابات نور — Page 563
تفرقہ کے اسباب اور چندہ کی چندتحریکیں (پہلی تقریرجلسہ سالانہ ۲۷؍دسمبر۱۹۱۳ء) حضرت خلیفۃ المسیح رضی اللہ عنہ کی تقریر یں حسب معمول میں نے صاف کر کے بغرض اصلاح آپ کی خدمت میں پیش کر دی تھیں لیکن جب یہ تقریر یں مجھے واپس ملیں تو پہلی تقریر کا صرف آخری حصہ ملااور ابتدائی حصہ آپ کے کاغذات میں کہیں مل گیا یا کسی بچہ کے ہاتھ آگیا اور وہ جاتا رہا۔اس تقریر میں حضور نے تفرقہ کے اسباب پر بھی کچھ بحث فرمائی تھی اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ جس قدر حصہ بھی مجھے مل گیا ہے میں اسے شائع کر دوں یہ حصہ کسی قدر اپیل کے متعلق ہے اور سب سے پہلے جس کے لئے آپ نے اپیل کیا وہ آپ کا خادم الحکم ہے حضر ت خلیفۃ المسیح رضی اللہ عنہ نے چھ ہزار روپیہ کا اپیل قوم سے کیاہے ؟ ایک حق پرست اور محسن کی قدر کرنے والی قوم اگر اس اپیل کو ناتمام رہنے دے گی تو وہ یاد رکھے کہ قیامت کو حضرت خلیفۃ المسیح کے سامنے بھی اسے ہونا ہے حضرت نے فرمایا تھا کہ سبکدوش کرنے کی فکر کرو یہ کام کسی شخص واحد کا نہیں بلکہ انجمنوں میں اس سوال کو پیش کر کے فیصلہ کرنا چاہئے۔کیا ان کی زندگی میں یہ اپیل بلاجواب رہ سکتاتھا۔میں دیکھوں گا کہ سب سے اول اس اپیل کے لئے کہاں سے صدائے لبیک بلند ہوتی ہے۔(ایڈیٹر) فرمایا:۔مذہب کا تو جب بھی تفرقہ بڑھاتا ہے، آسودگی کا خیال بڑھ جاتا ہے تو پھر حاجتیں بڑھتی ہیں۔ان کے پورا کرنے کے لئے بعض اوقات خود غرضیاں بڑھ جاتی ہیں عجز وکسل بڑھ جاتا ہے۔اسباب میسر نہ کرنے کو عجز کہتے ہیں اور اسباب مہیا شدہ سے کام نہ لینے کو کسل کہتے ہیں۔بعض دوست ایسے ہیں کہ وہ ان دونوں بیماریوں میں گرفتارہیں نہ تو اسباب مہیا کرتے ہیں اور نہ مہیا شدہ سے کا م لیتے ہیں۔اٹکل بازیاں بھی مفید نہیں ہوتیں ہیں۔میری جب نئی نئی دوسری شادی ہوئی تو ایک دن میں نے دیکھا کہ میری بیوی نقشہ سا بنا رہی ہے۔میں نے پوچھا کیا کر رہی ہو ؟تو کہا ضبط اوقات کا نقشہ بنا رہی ہو ں۔میں نے کہا کہ اس میں مجھے بھی شامل کر لو انہوں نے کہا تمہارا اس میں