خطابات نور — Page 562
کوئی را ستباز آیا تو تھوڑے عرصہ کے بعد اس کے ماننے والوں نے اس کو خدا ٹھہرا لیا۔رامچندرجی کو خدا بنایا گیا، کرشن جی کو خدا ٹھہرا یاگیا اور حضرت مسیح کو بھی خدا اور خدا کا بیٹا بنایا گیا ہے حالانکہ حضرت مسیح نے کہا بھی تھا کہ مجھے اچھا نہ کہو بلکہ اچھاایک ہی ہے جس کو خدا کہتے ہیں۔اس لئے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نکتہ تجویز فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ مجھے بھی ان کی ہی طرح بنا یا جاوے تو لا الٰہ الااللّٰہ کے ساتھ اپنا عبد اور رسول ہونا بھی رکھ دیا اور اسی امر کو مد نظر رکھا ااور اس کی وجہ یہی ہے کہ توحید یعنی لاالٰہ الا اللّٰہ کے ساتھ محمد رسول اللہ رکھا تھا تاکہ توحید ہمیشہ مدِّنظر رہے اور کسی زمانہ میں مجھے خدا نہ بنایا جاوے۔لوگ قبروں پر طواف کرتے ہیں ،سجدہ کرتے ہیں اور بعض ملانوں نے لوگوں کی خوشامد کو مد نظر رکھتے ہوئے اور اپنی دنیا میں کمی نہ آنے کی وجہ سے اس کو سجدہ تعظیم کہہ کر جائز بھی کر دیاحالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔گویا لوگ توحید پر قائم ہونے کے بعد پھر عیسائی بنتے ہیں اور ان کی راہ کو اختیار کرتے ہیں۔توحید اصل ہے اسلام کا اور اس امر کو پورا کرنے کے لئے یہ آواز بلند اذان میں اللہ اکبر ،اللہ اکبر رکھا ہے اوراکبر ایسا کلمہ ہے کہ اس میں خدا کی اعلیٰ درجہ کی تعظیم ہے۔اکبرسے بڑھ کر اور کیا لفظ ہو سکتا ہے پھر اسلام کا دوسرا پہلو شفقت علی خلق اللہ ہے۔سو زکوٰۃ اور حج کا حکم کر کے عام لوگوں پر شفقت کرنا سکھایا اور نماز ،روزہ کا حکم کر کے اپنی جان پر شفقت کرنا سکھایا۔روزہ بڑی بابرکت چیز ہے اور ا س میں انسان کومشق کرائی جاتی ہے کہ وہ اپنی جان کے لئے ناجائز طور پر کوئی چیز استعمال نہ کرے کیونکہ جب روزہ میں جائز چیزوں کو چھوڑنا سیکھے گا تو محمد رسو ل اللہ کو سچا سمجھتا ہوا اس کی نا جائز کردہ چیزوں کو تو ضرورہی چھوڑ دے گا۔غرض نتیجہ کلمہ شہادت سے یہ نکلا کہ اللہ کے سوائے کسی اور کو معبود نہ جانو اور محمد ؐ اللہ کا رسول اور بندہ ہے اور نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃ میں انسان کی اپنی جان کی بھلائی اور دیگر عام مخلوق کی بھلائی ہے ورنہ کسی کو اپنے مذہب میں داخل کرتے وقت پانی چھڑکنے سے کیا فائدہ ،اور دنیا کے متعلق تو حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا آسان ہے لیکن دولتمند کا خدائی بادشاہت میں داخل ہونا مشکل ہے۔آخر میں دعا فرمائی اور ماسٹرصاحب کا نام عبداللہ پسند فرمایا۔(البدر۱۲؍جون ۱۹۱۳ء صفحہ۵)