خطابات نور — Page 564
کیا تعلق ہے۔میں تو خاموش ہو رہا ، انہوں نے نقشہ بنا لیا۔میں نے ظہر کے بعد انہیں بلا لیا۔اب دوسرے دن دیکھتا ہوں کہ وہ پھر بنا رہی ہیں۔میں نے پھر دریافت کیا تو وہی جواب ملا۔اب پھر میں نے کہا کہ ہماری شمولیت بھی کرو۔انہوں نے کہا کہ کل کا انضباط تو درست نہ رہا اب ظہر کے بعد کا وقت آپ کے لئے رکھ لیا ہے، درست ہو گیا ہے۔اتفاق ایسا ہوا دوسرے دن ایک دوست آگیا۔اس کی خاطر مدارات میں انتظام کرنے میں وہ نقشہ پھر بدل گیا۔تیسرے دن پھر بدلنے لگی۔میں نے کہا اب بھی ہمیں شریک کرو تو کہا کہ ہر روز آپ کے دوست تھوڑا آتے ہیں، کبھی کوئی آگیا۔اب یہ درست ہو جاوے گا مگر وہ ہر روز اسے بناتی اور ہر روز غلط ہو جاتا۔آخر میں نے کہا اب بس کرو یہ نقشہ درست نہیں ہو گا جب تک مجھے شریک نہ کرو گی۔جب اولاد ہو جاوے گی تو اور مشکلات بڑھ جائیں گی اور ابھی تو ایک بڑی بھاری منزل باقی ہے اس وقت تک میں نے ان کو اپنی پہلی بیوی سے نہیں ملایا تھا۔پوچھا وہ کیا میں نے کہا ابھی ایک اور پہاڑ ہے میری پہلی بیوی ہے۔انہوں نے کہا پھر مجھے کیا تعلق ؟میں نے کہا یہ بھی بتائیں گے۔غرض اٹکل بازیوں سے کام نہیں چلتا۔غرض میں نے سنایا کہ اختلاف تو ہے اور رہے گا اور یہ اختلاف منشاء الہی کے ماتحت بہت سے مصالح پر مبنی ہے۔باوجود اس اختلاف کے دنیا میں اتحاد بھی ہے، اس واسطے تم بھی اتحاد کرو۔اللہ تعالیٰ کے اسماء، افعال اور عبادت میں متحد ہو جائو۔ملائکہ کو ماننے اور ان کی پاک تحریکوں پر عمل کرنے میں وحدت اختیار کرو۔اللہ تعالیٰ کی کتابوں کے ماننے میں جزا و سزا کے مسئلہ کے ماننے میں وحدت اختیار کرو۔پھر میں نے تمہیں وہ نکتے بتائے ہیں جن سے قرآن کریم سمجھ میں آتا ہے اور وہ اسباب بتائے ہیں جن سے تفرقہ پیدا ہوتا ہے ان اسباب کا نمونہ پیغام صلح کی کھلی چٹھی ہے۔اس گندکے دور کرنے کے واسطے ہمارے دوستوں کو بڑا خون جگر کھانا پڑا اور قربانیاں کرنی پڑیں۔اگر پہلے ہی اس خبیث کا ہاتھ پکڑا جاتا تو اس قدرتکلیف کیوں ہوتی ؟ ایک نکتہ اور بتاتا ہوں اور وہ بھی مجھے قرآن کریم ہی سے ملا ہے۔میں نے قرآن کریم بہت پڑھا ہے اور اب تو میری غذا ہے اگر آٹھ پہر میں خودنہ پڑھوں اور نہ پڑھائوں اور میرا بیٹا میرے سامنے آکر نہ پڑھے تو میں اس کا وجود بھی نہیں سمجھتا۔سونے سے پہلے وہ آدھ سپارہ مجھے سنادیتا ہے