خطابات نور — Page 561
اسلام کیا چیز ہے ؟ (تقریر فرمودہ ۲۲؍مارچ ۱۹۱۳ء) مورخہ ۲۲؍مارچ ۱۹۱۳ء کو شیخ عبداللہ صاحب نو مسلم سابق ڈاکٹربھگوان داس کشتہ، ستارہ ہند عیسائی ہیڈماسٹر سکول سہارن پور حضرت خلیفۃ المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں مشرف باسلام ہونے کے لئے پیش ہوئے تو حضرت خلیفۃ المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک وعظ فرمایا جس میں کلمہ اور اسلام کی حقیقت کو بیان فرمایا اس وعظ کا خلاصہ ہدیہ ناظرین کیا جاتاہے۔(ایڈیٹرالبدر) حضرت صاحب نے فرمایا کہ:۔اسلام ایک ایسا مذہب ہے کہ اس میں بھول بھلیاں نہیں ہیں۔اسلام کا خدا وہی خدا ہے جس کے متعلق حضرت مسیح نے کہا کہ مجھے نیک نہ کہو، نیک وہی ایک ہے یعنی خدا۔ہندئوں میں اس کو پرم ایشور یعنی بڑے سے بڑا ایشور کہتے ہیں۔اسلام اسی کو دنیا میں لایا ہے اور اس کو اشہد ان لاالٰہ الا اللّٰہ کے رنگ میں پیش کیا جس کے معنے ہیں کہ اللہ کے سوائے پرستش کے لائق کوئی چیزنہیں۔دنیا نے درختوں کو،پانی کو ،سورج وچاند کو، جانوروں کو، پتھروں اور آدمیوں کو معبود بنایا لیکن اسلام نے لااِلٰہ الَّااللّٰہ کہہ کر تما م شرکوں کی جڑ کاٹ دی کہ ان چیزوں میں سے کوئی چیز بھی پرستش کے لائق نہیں ہے۔بعض لوگوںنے َگرڈ(نیل کنٹھ )کو بھی خدا کہا ہے اور اس کو سب جانوروں کا بادشاہ کہتے ہیں اور عیسائیوں نے تو اور بھی غضب ڈھایا ہے کہ ایک آدمی کو جو کھانے پینے اور دیگر تمام حوائج انسانی کا محتاج تھا خدا بنا دیا اور انسان کو خدا بنایا۔ایک پُرانا مسئلہ ہے جب کوئی پیشوا بن کر آیا اور اس نے اصلاح کی اور پھر وہ کامیاب ہو گیا تو اس کو خدا بنا دیا گیا لیکن افسوس ہے کہ حضرت مسیح تو کامیاب بھی نہ ہوئے بلکہ اس کو یہودیوں نے پکڑ کر صلیب پر چڑھا دیا لیکن پھر بھی اس کو خدا بنادیا گیا۔لااِلٰہ الَّااللّٰہکے معنے ہی یہی ہیں کہ صرف اللہ ہی ہے جو کہ انسان کی ضروریات کی تمام چیزیں مہیا کرتا ہے اور ان کو پیدا کرتا ہے اس کے سوا کسی اور کی پرستش نہ کرنا اور کسی اور کو معبود نہ جاننا اور اِلٰہ کے معنے معبود ہیں۔خدا کے سوا غیرکو پوجنا اور سجدہ کرنااس کانام شرک ہے لیکن اسلام نے جہاں اشہد ان محمدا عبدہٗ ورسولہبھی رکھا ہے اور اس کا بھید یہ ہے کہ چونکہ دنیا میں جب کبھی