خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 511 of 660

خطابات نور — Page 511

اوتھے گھاڑ گھڑیندے ہور۔پکڑن سادھ تے چھڈن چور لیکھا بے پروائیاں دا یعنی دنیا اعتبار کے قابل نہیں ایسے مضامین کبھی لوگ غلط سمجھ لیتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ حقائق صحیحہ اور نتائج صحیحہ واقعی ہیں یاوہم ہیں۔اس پر دو قسم کے لوگ ہیں ایک وہ جو مذہب کے پابند ہیں اور بعض مذہب کے پابند نہیں رہے۔بہت سے لوگ ہیں کہ وہ اپنے آپ کو مذہب کا بڑا پابند ظاہر کرتے ہیں اور اگر ذرا بھی بے ادبی اپنے مقتدا کے خلاف دیکھیں تو جان تک خطرہ میں ڈال دیتے ہیں مگر عمل کچھ نہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عملی رنگ میں جزا و سزائے اعمال کے منکر ہیں۔یہاں اللہ تعالیٰ اس سورۃ میں اس عقیدہ باطلہ کو رد کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ جیسے اسباب مہیا کروگے ویسے ہی نتائج ہوں گے۔اس دعویٰ کا ثبوت ایک قدرتی نظارہ سے دیا جاتا ہے۔۔رات کی طرف دیکھو اس کے صفات اور آثار الگ ہیں۔جو باغ دن کو راحت بخش ہیں اور جن سے دن کو آکسیجن نکلتی ہے وہی باغات رات کو راحت بخش نہیں اور اب انہیں درختوں سے کاربن نکلتی ہے جو قاطع حیات ہے اور بچوں کے لئے تو وہ خوبصورت درخت رات کو ہوّے نظر آتے ہیں۔دانا کہتے ہیں کہ درختوں سے رات کو کاربن نکلتی ہے۔مذہب منع کرتا ہے کہ رات کو درختوں کے نیچے نہیں سونا چاہیے۔دن کی تاثیریں اور عجائبات بالکل جدا ہیں۔وہی درخت جو رات کو کاربن نکالتے تھے دن کوآکسیجن چھوڑتے ہیں اور ہندئووں نے تو درختوں کے متعلق مذہبی قواعد بنا دئیے بہت دانائی اور عاقبت اندیشی کی۔اس گرم ملک میں بڑ اور پیپل خدا کی نعمت ہے ان کی حفاظت ایسی نہ ہوتی جیسی اب مذہبی پیرائے میں ہورہی ہے۔غرض رات اور دن کے جدا جدا لوازمات ہیں۔اگر کوئی کہے کہ رات کو درختوں کے نیچے سویا کریں تو وہ نقصان اٹھائے گا۔دن کو باغات کی سیر کرنے اور ان کے نیچے سونے کو پسند کیا جاتا ہے اور اس سے طبیعت میں خوشی پیدا ہوتی ہے۔پھر اگر کوئی اتنا باریک علم نہ رکھتا ہو تو دن اور رات کے خواص اور تاثیرات پر فلسفی نظر نہ رکھتا ہو تو فرمایا۔۔