خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 510 of 660

خطابات نور — Page 510

قسمیں ملک کو ویران کردیتی ہیں اور قسمیں کھانے والے کی عزت نہیں رہتی۔اب قابل غور یہ امر ہے کہ جن لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ قسمیں ذلیل کردیتی ہیں اور ملک کو تباہ کردیتی ہیں ان کے سامنے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے قسمیں نکلوائیں اور اس طرح پر ان کے اپنے مسلمہ عقیدہ کے رو سے حجت پوری کی کہ عوام کے خیال کے موافق تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (نعوذ باللہ) ذلیل اور ہلاک ہوجاتے مگر آپ روز افزوں ترقی کرتے گئے یہاں تک کہ آپ کے اقبال سے شاہان وقت لرزہ کھا جاتے تھے۔پس عوام کے لئے یہ معجزہ بلکہ آیت اللہ اور سلطان مبین ہے۔حکام کے لئے بادشاہ وقت تک تخت پر بغیر قسم کے نہیں بیٹھ سکتا۔وزراء، پارلیمنٹ کے ممبر قسم کے بغیر اپنے عہدہ پر متعین نہیں ہوتے۔بڑے بڑے عہدہ داران جیسے چیف کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج ہیں ان سے بھی قسم لی جاتی ہے۔یہ شخصی بات سہی مگر ہماری فاتح قوم نے تو حد کردی اس کے قانون میں یہ بات لازم ہے کہ مسیحی آدمی قسم کھائے اور باقی کے لئے اقرارصالح کافی ہے۔غرض عوام کا وہ حال ہے اور حکام کا یہ۔بیچ میں رہے فلاسفرز لوگ ان کے لئے قرآن کریم کی قسمیں عجائبات پر مبنی ہیں۔سنن الٰہیہ یا لاز آف نیچر سے جب قرآن کریم استدلال کرتا ہے تو فلسفی کا دماغ بھی ا س کے ماننے پر تیار ہوجاتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قسم میں فلسفی مضمون ہوتا ہے جس کے ماننے میںعقلمند کو مضائقہ نہیں ہوتا اور یہ قسمیں بطور شواہد اور دلائل کے ہوتی ہیں۔میں قرآن مجید سے ایک دو قسموں کے مقام تمہیں سناتا ہوں۔(الّیل :۲تا۵) اس سورۃ کو بھی قسم سے شروع کیا ہے اور اس میں رات دن کے قدرتی مناظر اور ان کے مختلف نتائج اور عورت و مرد کے باہمی تفاوت اور پھر تعلقات اور نتائج کو بطور شاہد پیش کرکے مسئلہ جزائے اعمال کا ثبوت دیا ہے کیونکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دنیا کا کیا پتاہے۔نیکوں کو دکھ اور بدوں کو سکھ مل جاتے ہیں۔اس مضمون کو ایک فقیر نے ادا کیا ہے اس کے معنی تو لطیف ہوسکتے ہیں مگر عوام نے اس سے اباحت اور جرأت سیکھی ہے۔