خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 512 of 660

خطابات نور — Page 512

عورت و مرد کے مساوات والے پڑھیں: عورت اور مرد کی بناوٹ پر غور کرو۔دو جدا جدا ہستیاں ایک ہی نوع کی ہیںمگر ہر دوکے اعمال اور قدرتی فرائض جدا جدا ہیں۔آج کل تھوڑی تعلیم کے لوگ مساوات کی بحث کرتے ہیں وہ صریح غلطی پر ہیں۔میں ایک مرتبہ کشمیر میں ایک دوست کے مکان پر بلا تکلف چلاگیا۔وہاں ایک بڑا ڈاکٹر موجود تھا۔ڈاکٹر سے مراد علم طب کا ماہر نہیں بلکہ عالم مراد ہے۔اس نے عورتوں اور مردوں کے حقوق کی مساوات پر بحث کی۔اس نے دو مرتبہ کہا کہ عورت اور مرد باہم برابر ہیں۔تب میں نے اس کو مخاطب کیا اور پوچھا۔آپ کا کوئی بیٹا ہے؟ پہلے تو اس نے مکروہ سمجھا کہ میں نے بدوں انٹروڈیوس اس سے خطاب کیا مگر جب اس نے دیکھا کہ صاحب مکان میری تکریم کرتا ہے تو اس نے جواب دینا پسند کیا اور بڑی خوشی سے کہا کہ ہاں۔میں نے نہایت بے تکلفی سے اس کی چھاتی پر ہاتھ مار کر ٹٹولا اور کہا کہ اب تو آپ کی باری بچہ جننے کی ہو گی۔میری اس حرکت سے اس نے سمجھ لیا کہ یہ بڑی جرأت والا آدمی ہے اس لئے اس نے گھر والے سے پوچھا کہ یہ کون ہے۔اس نے کہا کہ یہ آپ ہی کہہ دیںگے میری تو جرأت نہیں کہ بتائوں۔پھر اس کو پتا لگ گیا۔میرے اس عملی اعتراض پر وہ بہت گھبرایا اور آخر اسے ماننا پڑاکہ عورت اور مرد باہم مساوی نہیں۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مرد اور عورت کے خواص الگ ہیں اور ان کے فرائض جدا جدا۔اگر ان امور پر تم نظر کرو گے تو تمہیں صاف معلوم ہوجائے گا ۔جب کام جدا جدا ہیں تو ان کے نتیجے بھی الگ الگ ہوں گے۔اسی طرح پر نیکی اور بدی میں تفاوت ہے۔نیکی کا نتیجہ نیک اور بدی کا نتیجہ بد ہوگا۔اس کے مطابق اب مسئلہ سزا و جزا کا حل ہوگیا۔اس طرح پر قرآن مجید کی قسمیں بڑے بڑے مسائل کا حل کرتی ہیں۔۳۵ مقامات پر قسمیں آئی ہیں اور وہ حقیقت مدعا کی مثبت ہیں۔ میں جو قسم ہے وہ بھی ایک امر کی مثبت ہے۔فرمایا عصر کو دیکھو۔انسان گھٹیل حالت میں ہے۔ہر گھڑی جو اس پر آتی ہے وہ اس کو کچھ کم ہی کرتی ہے۔ماں کے ہاں جب بچہ پیدا ہوتا ہے