خطابات نور — Page 473
اور خدا تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں کہ ایسا وہم بھی میرے دل میں گزرے۔اللہ تعالیٰ نے مخفی در مخفی خزانہ مجھے دیا ہے کوئی انسان اور بندہ اس سے واقف نہیں۔میری بیوی بچے تم میں سے کسی کے محتاج نہیں اللہ تعالیٰ آپ ان کا کفیل ہے تم کسی کی کیا کفالت کرو گے جبکہ تم فقرا ہو۔(محمد :۳۹)۔جو سنتا ہے وہ سن لے اور خوب سن لے اور جو نہیں سنتا اس کو سننے والے پہنچا دیں کہ یہ اعتراض کرنا کہ خلافت حقدار کو نہیں پہنچی رافضیوں کا عقیدہ ہے۔اس سے توبہ کر لو۔اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے جس کو حقدار سمجھا خلیفہ بنا دیا۔جو اس کی مخالفت کرتا ہے وہ جھوٹا اور فاسق ہے فرشتے بن کر اطاعت وفرمانبرداری اختیار کرو ابلیس نہ بنو۔مسئلہ اکفار: دوسرا مسئلہ جس پر اختلاف ہوتا ہے وہ اکفار کا مسئلہ ہے اپنے مخالفوں کو کیا سمجھنا چاہئے؟ اس مسئلہ کے متعلق تم آپس میں جھگڑتے ہو۔ہمارے بادشاہ ہمارے آقا مرزا صاحب نے اس کو کھول کر بیان کر دیا ہے مگر تم پھر بھی جھگڑتے ہو۔سنو! ایک امام مثنوی روم کے مصنف ہیں وہ علم کلام کی کتاب ہے مگر وحدت وجود والے ان کے ہر قول کو وحدت وجود میں لے آتے ہیں۔اس نے ایک جگہ مذاہب کے اختلاف کو بیان کر کے لکھا ہے۔وحدۃ اندر وحدۃ است ایں مثنوی کیا مطلب مثنوی ایک راہ بتائے گی اور یہ مثنوی وحدت سے باہر نہیں جائے گی۔آگے اس کے معنی کوئی اور کرے یہ اس کا اختیار ہے ایک جگہ وہ کہتا ہے۔بشنواز نَے چوں حکایت مے کند وزجدائی ہا شکایت مے کند نَیمیں کوئی بولتا ہے تو وہ بھی بولتی ہے۔یہ انبیاء علیہم السلام کی شان ہے وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتے بلکہ خدا تعالیٰ کے بلانے سے بولتے ہیں اسی لئے قرآن مجید میں فرمایا : (النساء :۸۱) خدا تعالیٰ کے رسولوں کی اتباع خدا تعالیٰ کی اتباع ہے اور ان کی اتباع سے منحرف ہونا اور انکار کرنا اللہ تعالیٰ کا انکار ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کبھی مکمل اور موثر نہیں ہوتا۔جب تک انبیاء