خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 474 of 660

خطابات نور — Page 474

علیہم السلام کی نبوت پر یقین اور ایمان نہ ہو۔انبیاء علیہم السلام کی غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو خدا تعالیٰ کا پتا لگ جاوے اور چونکہ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے وقت لوگ خدا تعالیٰ سے غافل اور دور ہوتے ہیں اور ان میں اور خدا تعالیٰ میں ایک تفرقہ اور جدائی ہوتی ہے اس لئے وزجدا ئی ہا شکایت مے کند وہ نبوی نئے اس تفرقہ اور جدائی کی شکایت کرتی ہے۔یہ بہت دقیق اور طویل مضمون ہے اس وقت اس پر زیادہ نہیں کہتا۔انبیاء کی ضرورت اور ان پر ایمان کے متعلق قرآن مجید نے کھول کر بیان کیا ہے۔غرض مثنوی کے مصنف نے ایک حکایت لکھی ہے کہ پچھلی قوم کو ایک ہادی کے ماننے میں سہولت ہوتی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ انبیاء علیہم السلام کس وقت آتے ہیں؟ ان کی آیات ، کرامات، معجزات کیا ہوتے ہیں؟ کیونکہ پہلے انبیاء کی ایک جماعت آچکی ہوتی ہے مگر پہلوں کو مشکل ہوتی ہے ان کے مقابلہ میں پچھلوں کو سہولت اور آسانی ہوتی ہے۔وہ پہلوں کی تعلیم پیش کردیتا ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ باوجود یہ کہ پہلے نبی پچھلوں کے لئے راہ صاف کر جاتے ہیں مگر پھر بھی پیچھے آنے والوں پر ان کی قوم اعتراض کر دیتی اور ان کا انکار کر دیتی ہے۔پس یہ کیسی صاف راہ ہے ہر نبی کے زمانہ میں لوگوں کے کفر اور ایمان کے اصول کلام الٰہی میں موجود ہیں۔جب کوئی نبی آیا اس کے ماننے اور نہ ماننے والوں کے متعلق کیا دقت رہ جاتی ہے؟ ایچاپیچی کرنی اور بات ہے ورنہ اللہ تعالیٰ نے کفر، ایمان اور شرک کو کھول کر بیان کر دیا ہے۔پہلے نبی آتے رہے ان کے وقت میں دو ہی قومیں تھیں‘ ماننے والے اور نہ ماننے والے۔کیا ان کے متعلق کوئی شبہ تمہیں پیدا ہوا؟ اور کوئی سوال اٹھا کہ نہ ماننے والوں کو کیا کہیں جو اب تم کہتے ہو کہ مرزا صاحب کے نہ ماننے والوں کو کیا کہیں ؟ قرآن مجید میں ایک مثال اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔