خطابات نور — Page 472
فرمانبردار اور وفادار ہیں اور انہوں نے اپنا دعویٰ میرے سامنے پیش نہیں کیا۔مجھے بدر کے ایک فقرہ سے بہت رنج ہوا کہ کوئی مرزا صاحب کا رشتہ دار نور الدین کا مرید نہیں۔یہ سخت غلطی ہے جو کی گئی ہے مرزا صاحب کی اولاد دل سے میری فدائی ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ جتنی فرمانبرداری میرا پیارا محمود، بشیر، شریف، نواب ناصر، نواب محمد علی خان کرتا ہے تم میں سے ایک بھی نظر نہیں آتا۔میں کسی لحاظ سے نہیں کہتا بلکہ میں ایک امر واقعہ کا اعلان کرتا ہوں ان کو خدا کی رضا کے لئے محبت ہے۔بیوی صاحب کے منہ سے بیسیوں مرتبہ میں نے سنا ہے کہ میں تو آپ کی لونڈی ہوں۔ایڈیٹر بدر کا فرض تھا کہ وہ ایسی تحریر کی فوراً تردید کرتا اور لکھ دیتا کہ یہ جھوٹ ہے میاں محمود بالغ ہے اس سے پوچھ لو کہ وہ سچا فرمانبردار ہے۔ہاں ایک معترض کہہ سکتا ہے کہ سچا فرمانبردار نہیں مگر نہیں میں خوب جانتا ہوں کہ وہ میرا سچا فرمانبردار ہے اور ایسا فرمانبردار کہ تم میں ایک بھی نہیں جس طرح پر علی، فاطمہ، عباس نے ابوبکر کی بیعت کی تھی اس سے بھی بڑھ کر مرزا صاحب کے خاندان نے میری فرمانبرداری کی ہے۔اور ایک ایک ان میں سے مجھ پر فدا ہے کہ مجھے کبھی وہم بھی نہیں آسکتا کہ میرے متعلق انہیں کوئی وہم آتا ہو۔سنو! میرے دل میں کبھی یہ غرض نہ تھی کہ میں خلیفہ بنتا۔میں جب مرزا صاحب کا مرید نہ تھا تب بھی میرا یہی لباس تھا۔میں امرا کے پاس گیا اور معزز حیثیت میں گیا مگر تب بھی یہی لباس تھا مرید ہو کر بھی میں اسی حالت میں رہا۔مرزا صاحب کی وفات کے بعد جو کچھ کیا خدا تعالیٰ نے کیا۔میرے خیال ووہم میں بھی یہ بات نہ تھی مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت نے چاہا اور اپنے مصالح سے چاہا مجھے تمہارا امام اور خلیفہ بنا دیا اور جو تمہارے خیال میں حقدار تھے ان کو بھی میرے سامنے جھکا دیا۔اب تم اعتراض کرنے والے کون ہو۔اگر اعتراض ہے تو جائو خدا پر اعتراض کرو۔مگر اس گستاخی اور بے ادبی کے وبال سے بھی آگاہ رہو۔اس اخبار کو جس نے ایسا غلط واقعہ لکھا ہے اب بھی تلافی کرنی چاہئے ا ور ایسے طور پر کہ ہمارے پیارے محمود اور اس کے بھائیوں سے پوچھ کر تلافی کرے۔میں کسی کا خوشامدی نہیں مجھے کسی کے سلام کی بھی ضرورت نہیں اور نہ تمہاری نذور اور پرورش کا محتاج ہوں