خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 40 of 660

خطابات نور — Page 40

اغراض کے ماتحت کرنے کے لئے اکیلی ہادی ہے جن کے لئے وہ پیدا ہوا ہے۔پھر عرب کی حالت اور بھی قابل غور ہے۔اس کے اردگرد یہ تینوں قومیں آباد تھیں۔ہندوستان میں وید کے ماننے والے ایران میں زرتشتی مذہب کے پیرو اور شام میں اور عرب کے حصص میں عیسائی اور یہود لیکن کس قدر تعجب خیز بات ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ایسا قوی التاثیر مذہب نہ ہوا کہ عربوں پر اپنا اثر ڈال سکتا۔تاریخ دنیا کا مصنف (جو ہمارے سید و مولا امام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک دعا کا نشانہ اور اسلام کی صداقت پر ایک نشان ہے) جس نے بڑے فخر سے اپنے آپ کو براہین احمدیہ کی تکذیب لکھ کر مکذّب کہا ہے۔عرب کو آریوں کا راستہ بتاتا ہے کہ وہ مصر کو اسی راستہ سے جاتے تھے مگر مجھے ہمیشہ ہی تعجب رہا کہ وہ صداقتیں جو وید میں تھیں یا تو ان آریوں کو بھی معلوم نہ تھیں جو مصر کو عرب کے راستہ جاتے تھے اور یا ایسی کمزور اور بودی تھیں کہ عرب جیسے مشرکوں پر کوئی اثر ہی نہ ڈال سکتی تھیں۔اسی طرح پر عیسائیوں اور یہودیوں اور زرتشتیوں کے فیضان سے عرب محروم کا محروم ہی رہا۔مگر یہ کیا معجزہ ہے کہ عرب میں جب فاران کی چوٹیوں اور حرا کے غاروں سے ایک نور نکلا تو اس نے ہند پر اپنا اثر ڈالا۔ایران پر اپنا اثر ڈالا۔ایران پر اپنا اثر اور عیسائیوں اور یہودیوں پر اپنا اثر۔وہ عرب جن پر کسی کا اثر نہ پڑا تھا ان کے اثر سے سب کے سب متاثر ہوگئے اور اس کے نور سے سب نے حصہ لیا۔میں تو اس سے یہی نتیجہ نکالتا ہوں کہ یہ لوگ جو کچھ اپنے پاس لئے بیٹھے تھے وہ دراصل ایک کمزور اور بے حقیقت شیء تھی۔جس میں دوسرے پر اثر اندازی اور جذب کی کوئی قوت ہی نہ تھی ورنہ یہ بات بالکل ناممکن ہے کہ وہ اثر کرنے سے رہتی اور حقیقت میں یہ بالکل سچ ہے جبکہ ابھی میں نے دکھایا ہے کہ ان لوگوں کی مذہبی کتابوں کی یہ حالت تھی۔جب ایسی حالت اور صورت تھی تو دانشمند بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ دنیا اس وقت کس قدر جہالت کا سامان اکٹھا کرچکی تھی۔عرب میں تفرقہ اس قدر تھا کہ وحدت کا نام و نشان بھی پایا نہ جاتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے تحدیث بالنعمت کے طور پر اس امر کا ذکر کیا ہے کہ (اٰل عمران :۱۰۴)