خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 39 of 660

خطابات نور — Page 39

جیسا کہ انجیل کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے۔غرض یہ تو ان دو قوموں کا حال ہے۔جو اپنے آپ کو صاحب کتاب سمجھتے ہیں اور قرآن شریف کھلے طور پر جن کا مصدّق بھی ہے۔پھر ان دو سے پہلے جو قومیں گزری ہیں۔ان کے بقیۃالسلف جو اس وقت موجود ہوں گے ان کی حالت کا اس پر قیاس کرلو۔ہمارے اس ملک میں ایک قوم اٹھی ہے جس کو زمانہ کے تازیانہ نے یا ترقی کی ہوا نے بیدار کیا ہے۔وہ بھی ایک کتاب لے کر میدان میں نکلی ہے اور اپنی طرف سے کوشش کررہی ہے کہ اس کتاب کو دوسری کتابوں کے بالمقابل کوئی جگہ دے مگر مجھے حیرت آتی ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی کتاب کا پتہ جرمن سے ورے نہیں ملتا اور اگر اب پائی بھی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس کے سمجھنے والا ہی کوئی نہیں پہلوں نے جو ترجمے کئے بھاش لکھے ٹیکا کئے وہ بالکل غیر مفید غیر متعلق اور خانہ ساز تھے اصل عبارات سے ان کا کچھ تعلق نہیں ہے۔میں جب ایسی آوازیں سنتا ہوں تو میری حیرت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ کتاب کی اصل غرض عمل ہوتی ہے اور عمل کے لئے مطلوب ہے اس کا علم اور واقفیت اور وہ یہاں مفقود ہے پھر اس کتاب کا فائدہ کیا؟ غرض جس قدر اس سوال پر میں نے سوچا ہے اور میں سچ کہتا ہوں کہ میں نے مدتوں سوچا ہے اور بالکل خالی الذہن ہوکر محض سچائی اور راستی کے لینے کے لئے سوچا ہے اسی قدر میرا تعجب اور افسوس بڑھا ہے ان قوموں پر ان کتابوں پر۔اور شرح صدر ہوا ہے قرآن کریم کی تعلیمات کی سچائی پر اور اس کے لانے والے کی صداقت پر اور بے اختیار ہوکر میرے دل سے نکلا ہے۔اللّٰھم صلّ علٰی محمد وعلٰی اٰل محمد وبارک وسلّم دنیا کے مختلف مذاہب اور ان کی مذہبی کتابوں اور ان کے ماننے والوں کی عملی حالت نے مجھے ضرورتِ قرآن کی طرف بڑی بھاری رہنمائی کی ہے اور میں یقینا جانتا ہوں اور اسی لئے دعویٰ سے کہتا ہوں کہ جو شخص اپنے گوشہ تنہائی میں دل کو صاف کرکے اس تفرقہ مذاہب اور حالت مذاہب پر نظر کرے گا اگر اس کے دل میں کچھ بھی سلامتی اور فطرت میں سعادت، سر میں دماغ اور عقل میں قوت فیصلہ ہے تو وہ اس نتیجہ پر بہت جلد پہنچ جاوے گا کہ اسلام ہی ایسا مذہب ہے جو انسان کے روحانی تقاضوں کو پورا کرتا ہے اور قرآن شریف ہی ایک کامل کتاب ہے جو انسان کی زندگی کو مفید اور ان