خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 41 of 660

خطابات نور — Page 41

تم آپس میں دشمن تھے۔ہم نے تمہارے دلوں میں ایسی محبت ڈال دی کہ اگر رات کو تم دشمن سوئے تھے تو صبح کو بھائی بھائی بن کر اٹھے۔غرض ان میں وحدت نظر نہ آتی تھی۔نہ وہ فاتح تھے اور نہ مفتوح جیسے وہ حکمرانی کے قواعد و ضوابط سے نا آشنا محض ویسے ہی رعایا بن کر رہنے کے اصول سے ناواقف۔نہ مصنف تھے نہ موجد تھے۔غرض کچھ بھی نہ تھے۔ایسی حالت میں ان کی عام حالت پکار پکار کر کہہ رہی تھی کہ مرد ے از غیب برون آید و کارے بکند دنیا کی عام حالت کا وہ نظارہ خاص عرب کی یہ حالت۔اس سے بڑھ کر اور کیا ضرورت ہوسکتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی۔۲؎ جب ایسی حالت دنیا کی ہورہی تھی اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور یہ اس وقت کی موجودہ حالت ہی صاف طور پر بتارہی تھی کہ ایک مزکّی کی ضرورت ہے اور پھر آپ نے جو اصلاح کی اس نے مہر کردی کہ لاریب آپ حقیقی مصلح تھے۔عربوں کی اس حالت کو ایسا تبدیل کیا کہ ایسی حیرت انگیز تبدیلی کی نظیر دنیا کی تاریخ میں پائی نہیں جاتی۔قرآن شریف کی روشنی کے آتے ہی حقوق اللہ اور حقوق العباد میں جو تاریکی اور تیرگی چھائی ہوئی تھی یکدم اڑ گئی۔دنیا میں نابود قوم بود ہوگئی۔وہ دنیا کی فاتح، امام، مقتدر فخر ٹھہری۔وہ قوم جو ہزاردرہزار مرض میں مبتلا تھی اس نے جس نسخہ کے ذریعہ شفا حاصل کی وہ نسخہ قرآن کریم ہی کا نسخہ تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس کا نام نور، رحمت، شفا اور فضل ہے۔اس نسخہ کو اپنا معمول بنا کر صحابہ کے سامنے کوئی سمندر یا پہاڑ روک نہ ہوا لیکن جوںجوں قرآن شریف ہی کی اتباع کی برکت سے کامیابی اور فتوحات کے دروازے کھلتے گئے۔اسی قدر تعیّش کے آجانے کی وجہ سے قرآن شریف سے اعراض ہوتا گیا اور دنیوی امور اور آسائشوں کی طرف توجہ بڑھتی گئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن شریف چھوٹ گیا اور اس کے ساتھ ہی وہ خیروبرکت اٹھنے لگی۔اختلاف بڑھنے لگا۔یہاں تک کہ انجام کار نہ دنیا رہی نہ دین۔مگر قرآن شریف اس وقت بھی ایسی کامل اور حکیم کتاب موجود تھی اور ہے کہ اگر اس کی طرف رجوع کیا جاتا اور سارے اختلافات کے مٹانے کا اس کو ہی ذریعہ قرار دیا جاتا تو کوئی مشکل مشکل نہ رہتی۔مگر حکومت اور فتوحات کے ساتھ ساتھ خود رائی اور خود غرضی پیدا ہوتی گئی اور قرآن شریف دستورالعمل نہ رہا۔جس نے وہ دن دکھایا جس کا کبھی خیال بھی مسلمانوں کو نہ آتا ہوگا لیکن اصل یہ ہے کہ وہ دن بھی مقدر تھا ضرور تھا کہ اسلام پر ضعف کی حالت آتی جیسا کہ اللہ