خطابات نور — Page 38
جو پاس ہے وہ ترجمہ در ترجمہ ہے اور اس کو لے کر خوش ہورہے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں خدا کی کتاب ہے!!! افسوس اس قوم پر جو اپنی توجہات سے باریک در باریک راہیں نکالتی ہے کلام اللہ سے اس طرح محروم ہے اور تعجب اور عبرت کی جگہ ہے کہ اس کا فخر ایسا ملیا میٹ ہوا کہ سچی کتاب کا پتہ نہیں کہ کہاں گئی۔۱؎ یہ دنیا کی معزز قومیں جیسی اس وقت اپنی کتاب کا پتہ نہ دے سکتی تھیں اور اس طرح پر گواہی دے رہی تھیں کہ ہادی کامل کے آنے کے وقت دنیا کی کیا حالت ہوتی ہے۔آج بھی باوجود تیرہ سو سال کی ترقیوں کے اسی طرح اپنی کتاب کی اصلیت پیش کرنے سے قاصر اور بے دست و پا ہیں۔میں حیران ہوتا ہوں کہ ایک طرف یہ قوم اس قدر بلند پروازیاں کررہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر احاطہ کرنے کے دعوے کرتی اور رموز قدرت میں سے بہت سے امور کو اپنے قبضہ میں کرلینے کی مدعی ہوتی ہے اور دوسری طرف یہ حال کہ اصل کتاب کا پتہ نہیں دے سکتی! یہ صدی لا انتہا نہیں تو کثیر التعداد ترقیوں کی صدی کہلاتی ہے لیکن مذہب کے معاملہ میں کتاب اللہ کی تفتیش اور تحقیق کے متعلق ایسی گری ہوئی صدی ہے کہ پہلے سے بھی زیادہ اس معاملہ کو تاریکی میں گرادیا ہے۔آزاد خیال (فری تھنکرز) لوگوں نے کوشش کی ہے کہ یورپ کو مذہب ہی کی قید سے آزاد کریں۔یہ ایک اور ثبوت ہے کہ اس وقت ایک ہادی کی ضرورت ہے۔غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت یہ تو پچھلوں کا حال تھاجن کی کتاب کو نازل ہوئے پورے چھ سو سال بھی نہ ہوئے تھے تو ان سے پہلوں کا کیا حال؟ توریت شریف کے محافظ جو انبیاء اللہ اور احبار کہلاتے تھے ان کا یہ حال ہے کہ وہی توریت جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے منسوب کرتے ہیں اسی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کا بھی ذکر کیا ہے۔حالانکہ یہ ناممکن بات ہے۔کیونکہ وفات کا واقعہ حضرت موسیٰ کے بعد کا ہی ہوسکتا ہے اور پھر قبر کا پتا نہیں یہ بھی اس میں لکھا ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایسے واقعات کا اندراج بعد میں ہوا ہے اور اس سے صاف کھل جاتا ہے کہ اصل توریت کی کیا حالت تھی اور وہ کہاں تک علماء یہود کی دست برد کے نیچے تھی۔اس میں کمی بیشی کرنے کے لئے وہ کیسے بے باک اور دلیر تھے؟ اپنے مذہبی شعائر سے ایسے ناواقف اور بے خبر کہ بیت اللہ کی تعیین میں ہی ان کو شبہ پڑا ہوا تھا