خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 417 of 660

خطابات نور — Page 417

ہو۔میں تمھیں وہ غذا دوںجو جسم نہیں روح کی سیری کا موجب ہو سکتی ہے اگر اللہ کا فضل ہو۔اس خیال میں آج میں نے سوچا کہ تقریر کیا ہوتی ہے ؟ پھر بہت سے معانی میرے دل میں آئے اگر میں انہیں ہی بیان کروں تو شام تک شاید وہ ختم نہ ہوں۔مجھے ایک عرب کا شعر یاد آگیا اگرچہ مجھے شعر کہنے کی عادت نہیں کبھی کہتا ہوں تو دقت سے کہہ سکتا ہوں۔ہاں میں شعر کو خوب سمجھ سکتا ہوں اور یہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہے اور و ہ شعر یہ ہے۔قالوا اقترح شیئاً بخدمک طبخہ فقلت اطبخوولی جبۃ و قمیصا ایک عرب سردی کے دنوں میں کسی کے گھر گیا اس پر گرم کپڑا کوئی نہ تھا۔موسم تھا سرما کا۔میزبان نے کہاکہ اگر آپ حکم دیں تو آپ کے لئے ویسا ہی کھا نا پکوائیں جو آپ پسند کرتے ہیں تو اس نے جواب دیا ہاں میرے لئے گرم کپڑے پکوا دو۔ایک میرا پیارا بچہ ہے اور مجھے بہت ہی عزیز ہے اس سے ذکر آیا کہ کوئی پیارا ہو اور گول چہرہ کی تعریف کرے تو کس سے تشبیہ دے۔کبھی چودھویں کے چاند سے اور کبھی سورج سے تشبیہ دے۔ایک بڑے آدمی نے ایک مرتبہ شعراء کو حکم دیا کہ وہ گول چہرہ کی تعریف کریں۔سب شعراء نے طبع آزمائیاں کیں۔مگر ایک نے کہا کہ جیسے گول خوبصورت روٹی ہوتی ہے۔اس رئیس نے فوراً سمجھ لیا کہ اس کو ابھی تک کھانا نہیں کھلایا گیا اس نے فوراً اپنے آدمی کو اشارہ کیا اور ملامت کی کہ ان کو ابھی تک کھانا نہیں کھلایا۔تب اس نے کہا کہ حضرت کھا نا تیارہے پہلے کھانا کھا لیں۔غرض مجھے بھی عجیب عجیب جوش اٹھتے ہیں۔میں اس بچہ کو وہ ساری ذوق کی باتیں نہیں سناتا۔اس وقت مجھے جب تقریر کے لئے کسی نے کہا تو پھر عجیب عجیب جوش اٹھنے لگے۔تو میں نے دل سے پوچھا کہ کو ن سی تقریر کرو گے ؟تو اس نے جواب دیا کہ اپنے پیارے کی پیاری کتاب قرآن ہی پڑھ دو۔اللہ تعالیٰ ہی نے یہ بات میرے دل میں ڈالی اور مجھے یہی پیاری لگی کہ ایسی ہی تقریر میں بھی بیان کروں۔آج کل کے سپیکروں کی حالت دنیا کے عجائبات ہیں۔اس وقت یورپ کی ہوا چلی