خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 418 of 660

خطابات نور — Page 418

ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارادے سے یا ہمارے اعمال کے سبب سے چلی ہے۔اس لئے لوگ یورپ کی ہر بات اور ہر ادا کو پسند کرتے ہیں۔تقریر میں بھی اسی یوروپین طرز کو پسند کرنے لگے ہیں۔لیکچرار اپنے لیکچروں میں کئی امر مد نظر رکھتے ہیں کبھی تو بہت سی ضرب المثلیں یاد ہوتی ہیں اور لیکچرار اپنے لیکچر میں انھیں ادا کرتا ہے او ر بڑے زور سے اپنے لیکچر کے دوران میں کہتا ہے جرمن میں یہ ضرب المثل ہے۔فرانس میں یوں ہے۔قدیم مکین لوگوں میں یہ ضرب المثل ہے۔انگریزی میں یہ فارسی میں وہ اور عربی لٹریچر میں فلاں اردو میں اس طرح پر ہے۔جب لیکچر ار مختلف زبانوںکی ضرب المثلیں بیان کرتاہے تو لوگ عش عش کر اٹھتے ہیں۔اور حیران رہ جاتے ہیں لیکچرار سمجھتا ہے کہ میری زبان کا سکہ سننے والوں کے دل پر بیٹھ گیا۔میں بھی کبھی ایسے لیکچرکو پسند تو کرتا مگر قلب پر اس کا کچھ اثر نہ تھا اس لئے کہ بولنے والاصرف دلربا ئی کرنا چاہتا تھا نہ کچھ اور۔غرض بعض بولنے والے تو اس قسم کے ہوتے ہیں اور بعض لطیف اشعار یاد کر لیتے ہیں اور موقع بموقع انہیں ایک ترتیب کے ساتھ پڑھتے جاتے ہیں۔ہر شخص کو اس کی نیت کے موافق پھل مل جاتا ہے۔اس میں شک نہیں شعر میں ایک طاقت ہوتی ہے جو قلوب پر اثر ڈالتی ہے۔اس لئے کہ شاعر بھی اللہ تعالیٰ کا تلمیذہوتا ہے۔بعض وقت اسے ایسی بات سمجھاتا ہے کہ اسے سن کر صوفی کو وجد ہو جاتا ہے۔مگر خود شاعر کو اس کے سننے سے وجد نہیں ہوتا۔ا س لئے کہ اسے براہ راست ملتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ملہمین کو بھی شعراء کے مصرعے اور اشعار ایک جگہ الہام ہوجاتے ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حق سبحانہ تعالیٰ کی وہ مراد ہوتی ہے۔میں دور چلا گیا میں سنانا چاہتا ہوں کہ مجھے کہا گیا کہ تقریر کرو۔مجھے کیا پسند ہے؟ خدائی کتاب مگرمجھے قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی چیز پیاری نہیں لگتی ہزاروں کتابیں پڑھی ہیں ان سب میںمجھے خدا ہی کی کتا ب پسند آئی۔باایں ایک احمق نے بڑھ کر ایک بات کہی ہے۔وہ مجھے کہتا ہے کہ تم جانتے ہو کہ تمہارے سر کو چوٹ کیوں لگی ؟اور کیوں وہ کچلا گیا ؟بعض لوگ میرے سامنے بہت اونچی باتیں کرتے ہیں کہ شاید میں بہرا ہوگیا ہوں۔وہ احمق اس چوٹ کی وجہ بتاتا ہے کہ تم نے ہزاروں ہزار کتابیں پڑھیں مگر