خطابات نور — Page 403
حربہء دعا {تقریر فرمودہ ۲۷؍دسمبر ۱۹۱۰ء بعد نماز ظہر و عصر} ۲۷؍دسمبر ۱۹۱۰ء کو حضرت خلیفۃ المسیح مدّظلّہٗ العالی کی طبیعت بہت کمزور تھی اور اس کی وجہ ۲۵؍دسمبر کی غیر معمولی تقریر اور زیادہ دیر تک باہر بیٹھے رہنا تھا۔اس کے بعد بھی پورا تخلیہ نصیب نہ ہوا۔احباب برابر آتے جاتے رہے تو بھی جیسا کہ اس قوم کا خاصہ ہوتا ہے کہ وہ تبلیغ حق کے لئے حریص ہوتی ہے آپ نے پسند کیا کہ بعد نماز ظہر وعصر پھر احباب کی عام ملاقات کے لئے باہر تشریف لائیں۔ظہر وعصر کی نماز جمع کر کے پڑھی گئی اس کے بعد حضرت مدرسہ کے صحن میں تشریف لائے اگرچہ آج آپ کا ارادہ تھا کہ کچھ بھی نہ کہیں گے لیکن آخر اسی حرص تبلیغ کے جوش نے مجبور کر دیا اور مندرجہ ذیل تقریر آپ نے فرمائی۔(ایڈیٹر) اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لاشریک لہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ۔امابعد اعوذ باللّٰہ من الشیطن الرجیم۔بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم۔اُ (المؤمن :۶۱) یہ ایک ہتھیار ہے اور وہ بڑا کارگر ہے لیکن کبھی اس کے چلانے والا آدمی کمزور ہوتاہے اس لئیاس ہتھیارسے منکر ہو جاتا ہے۔وہ ہتھیار دعا کا ہے جس کو تمام دنیا نے چھوڑ دیا ہے۔مسلمانوں میں ہماری جماعت کو چاہئے کہ اس کو تیز کریں اور اس سے کام لیں۔جہاں تک ان سے ہو سکتا ہے دعائیں مانگیں او رنہ تھکیں۔میں ایسا بیمار ہوں کہ وہم بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ میری زندگی کتنی ہے اس لئے میری یہ آخری وصیت ہے کہ لا الٰہ الا اللّٰہ کے ساتھ دعا کا ہتھیار تیز کرو۔تمہاری جماعت میں تفرقہ نہ ہو کیونکہ جب کسی جماعت میں تفرقہ ہو تا ہے تو اس پر عذاب آجاتا ہے جبکہ قرآن شریف میں فرمایا:۔(المائدۃ :۱۵) اب تک تم اس دکھ سے بچے ہوئے ہو۔خدا تعالیٰ کے فضل اور نعمت کے بغیر دعا بھی مفید نہیں ہوتی اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ بہت دعائیں کرو پھر کہتا ہوں کہ بہت دعائیں کرو تا کہ جماعت تفرقہ