خطابات نور — Page 386
احکام فقہ نکلتے ہیں یہ توکل تین سو ہوئے اور بالمقابل منسوخ ۶۰۰ ہوئے۔یہ تعجب انگیز بات تھی اگرچہ میرا علم اس وقت ایسا وسیع نہ تھا تا ہم میں عربی جانتا تھا اور مجھے اس میں بعض جگہ تأمّل ہوتا تھا مگر جرأت مقابلہ کی نہ تھی۔جب میں ان کتابوں کو پڑھ چکا تو پھر میں اور ایسی کتابوں کی تلاش کرتا رہا۔اس تلاش میں مجھے ایک ترُک مہتمم کتب خانہ ملے انہوں نے فرمایاایک کتاب میں باب ناسخ منسوخ کے متعلق ہے اور اس کا نام اتقان ہے۔پھر انہوں نے مجھے وہ کتاب پڑھنے کے واسطے عاریتاًدے دی۔اس کتاب میں میں نے لکھا دیکھا کہ صرف انیس یا اکیس آیات منسوخ ہیں زیادہ نہیں۔آپ لوگ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کس قدر خوشی اور راحت مجھے حاصل ہوئی ہوگی۔کہاں چھ سو اور کہاں صرف انیس۔عالم جوانی تھا۔میں نے کہا انیس آیات تو میں ابھی یاد کر سکتا ہوں۔جب میں نے ان آیات کو گہری نگاہ سے دیکھاتو مجھے فوز الکبیر نے یہ فائدہ دیا کہ اس میں صرف پانچ آیتیں ایسی ہیںجو منسوخ کہی جاسکتی ہیں باقی کا فیصلہ صاحب فوز الکبیر نے کر دیا کہ وہ منسوخ نہیں اس سے پھر مجھے ایسی خوشی ہوئی جیسے کسی کو کوئی سلطنت مل جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ معاً دوسرا خیال یہ پیدا ہوا کہ ناسخ منسوخ کے متعلق کوئی ارشاد حضرت حق سبحانہ تعالیٰ کا یا ارشاد نبوی نہیں ہے۔ورنہ اتنا اختلاف کیوں ہوتا کہ ایک کے نزدیک چھ سو آیات منسوخ ہوںاور دوسرے کے نزدیک صرف پانچ۔اس خیال سے جو خوشی مجھے حاصل ہوئی میں اس سرور کو نشہ کے ساتھ تعبیر کر سکتا ہوں۔جب میرے علم میں اس سے زیادہ وسعت ہوئی تو مجھے معلوم ہوا کہ خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ کا بھی اس نسخ کے متعلق کوئی فتویٰ نہیں اور نہ حضرت عمرؓ کا۔سب سے پہلا مباحثہ سب سے پہلا مباحثہ جو کہ مجھے پیش آیا وہ اسی مسئلہ ناسخ منسوخ کے متعلق تھا اور وہ لاہور میں ہی ہوا۔میرا اس وقت یہ خیال نہیںکہ میںاپنی سوانح عمری بیان کروں بلکہ مسئلہ نسخ کے متعلق بیان کرتا ہوں اور وہ اسباب بیان کرتا ہوں جنہوں نے مجھے اس موجودہ مذہبی عقائد تک پہنچایا۔جب میں تعلیم حاصل کر کے واپس پنجاب میں آیا اور راستہ میں لاہور میں ٹھہرا تو ایک مسجد میں وضو کر رہا تھا کہ ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ جب عمل بالقرآن و الحدیث ضروری ہے تو ہم ناسخ منسوخ کس طرح پہچانیں۔میں نے کہا یہ بحث لغوہے کوئی آیت منسوخ نہیں۔اس نے یہ بات وہاں کے امام مسجد سے جاکہی۔وہ مولوی صاحب