خطابات نور — Page 387
بہت ہی تیز ہوگئے ان کو اتنا اضطراب ہواکہ وہ اپنی جگہ پر بیٹھ نہ سکے۔کھڑے ہو گئے اور مجھے بڑی دھمکی سے بلایا کہ ادھر آئو۔مجھے تعجب ہوا کہ میرا ان کے ساتھ کوئی سابقہ تعلق نہیں۔قبل ازیں کوئی واقفیت نہیں۔یہ پہلی ملاقات ہے پھر یہ اتنا جوش کیوں دکھاتے ہیں۔میں نے کہا کہ آپ لوگ مباحثات کو لمبا کرتے ہیں اس مسئلہ میں بہت باتیں کرنے کی ضرورت نہیں۔فیصلہ کی راہ آسان ہے آپ کوئی ایک آیت پیش کریں جو آپ کے نزدیک منسوخ ہے۔میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزارہوں کہ اس وقت تائید ایزدی میرے شامل حال ہوئی کہ مولوی صاحب نے ان پانچ آیات میں سے کوئی آیت پیش نہ کی جن کے متعلق میں نے تحقیقات کی ہوئی نہ تھی۔خدا تعالیٰ نے ہی ایسا موقع دے دیا کہ انہوں نے ایک معمولی سی آیت پیش کی کہ اگر کوئی ناسخ منسوخ نہیں تو بتلائو (الکافرون:۷) کے کیامعنی ہیں۔میں نے کہا یہ تو بالکل موٹی سی بات ہے اس کا جواب تو تفسیر فتح العزیز میں موجود ہے۔بیضاوی کے حواشی پر بھی اس کا جواب درج ہے۔مجھے اس سے راحت پہنچی کہ کو ئی ایسی بات ان کے منہ سے نہیں نکلی جس سے بہت گفتگو کی ضرورت پیش آوے۔مولوی صاحب فرمانے لگے کہ کیا آپ سید احمد کو جانتے ہیں۔میں نے کہا میں نہیں جانتا۔اس وقت تک میں سر سید کے نام سے ناواقف تھا۔مولوی صاحب کہنے لگے کہ اس کا بھی یہی مذہب ہے کہ کوئی آیت منسوخ نہیں۔میں نے کہا خوب! پھر تو ہم دو ہوگئے۔مولوی صاحب فرمانے لگے تم امام شوکانی کو جانتے ہو۔میں نے کہاکہ نہیں۔مولوی صاحب نے کہا کہ امام شوکانی نے اپنی کتاب میںلکھا ہے کہ ابو مسلم اصفہانی بھی ناسخ منسوخ کا منکر تھا۔میں نے کہا آپ کا بھلا ہو مجھے تو ان لوگوںکا علم نہ تھا۔مولوی صاحب اب تو ہم تین ہو گئے اور تین کی جماعت ہوتی ہے۔مولوی صاحب کہنے لگے کہ یہ خیال بدعت ہے خیر خدا نے مجھے راحت دینی تھی۔میں بہت خوش ہو کر وہاں سے چلا آیا۔وطن میں پہنچ کر جب اس کا ذکر ہوا تو ایک دوست نے مشورہ دیا کہ ان پانچ آیات کے متعلق بھی تحقیق کرلینی چاہئے کیونکہ ممکن ہے کہ آئندہ گفتگو کے وقت کوئی شخص وہی آیات پیش کر دے تو پھر د ّقت واقع ہو۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے گھر میں کتابوںکا ذخیرہ کافی تھا ہر طرح کی آسودگی حاصل تھی، حافظہ قوی تھا، سب قویٰ صحیح تھے، جوانی کا وقت تھا۔پھر صحت تھی اور فراغت تھی کتابوں کا مطالعہ خوب کر سکتا تھا اور کرتا تھا۔جب میں کتابوں کو دیکھنے لگا تو پانچ میں سے تین آیات پر تو