خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 34 of 660

خطابات نور — Page 34

وہاں اپنے فرشتوں کو بھیجتا ہے کہ جو کچھ گھر والے کہیں تم ساتھ آمین کہو۔پس جو عورت بے صبری سے کلمات زبان پر لاتی ہے اگر اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فرشتے آمین کہہ دیں اور وہ دعا منظورِ خدا ہوجاوے تو اس عورت کا کیا حال ہو۔ایسی بے صبریوں میں کوئی آنکھیں کھو بیٹھتی ہے کوئی ہاضمہ بگاڑ لیتی ہے۔کسی کا سر خراب ہوجاتا ہے۔غرض طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔پس بڑے صبر سے کام لو۔کاش میری بیویاں بھی میرے کہنے پر بتمامہٖ عمل کرتیں تو میں ان کو اس سے کہیں زیادہ محبت کرتا جو اب کرتا ہوں۔پھر میں دیکھتا ہوں کہ انسان جس دنیا اور مال و اولاد کی خاطر ایسی ایسی تکلیفیں اٹھاتا ہے۔ان میں سے کوئی ایک بھی اس کی مصائب میں حصہ نہیں لے سکتا۔ذرا پیٹ میں درد ہو تو اس کے ہٹانے والا کوئی نہیں۔غور کرو۔مجھے حضرت مرزا صاحب نہایت ہی پیارے ہیں۔میں نے ملک، وطن، نوکریاں، زمین، ہر قسم کے ذرائع، تحصیل مال و منال ان کے حضور خاص رہنے کی خاطر چھوڑیں ہیں۔اگر کہیں جاتا بھی ہوں تو صرف ان کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے اور بھی یہاں تک مجھے وہ پیارے ہیں کہ اگر میرے پچاس بیٹے ہوں تو میں اس کے ایک بیٹے پر ان پچاس کو قربان کردوں لاکن غور کرو جب مجھے کوئی دکھ، درد، تکلیف پہنچتی ہے۔وہ بھی بجز رضاء الٰہی کے ہرگز ہرگز ہرگز میرے دکھ درد کا حصہ نہیں لے سکتے۔پس اللہ تعالیٰ ہی سے مدد مانگو اور صبر اور استقلال سے کام لو۔اس کی رضاء پر راضی ہوجائو اور قرآن کریم پر عمل کرو۔اللہ تعالیٰ مجھ کو اور تم کو قرآن کریم پر عمل کرنے کی توفیق دے اگر کوئی مجھ پر کسی ایسے کلمہ سے جس کے ساتھ اس کی دل آزاری ہوئی ہو ناراض ہوئی ہو تو وہ معاف کرے کیونکہ میں نے صرف دردِ دل اور اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچانے کی خاطر سچی ہمدردی سے یہ باتیں کہی ہیں۔(الحکم ۶‘۱۳؍ستمبر ۱۸۹۸ء صفحہ۸تا۱۰) ٭…٭…٭