خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 33 of 660

خطابات نور — Page 33

کرے گا۔ایک اور عورت ہمارے پڑوس میں رہتی ہے کہ جو اپنی اولاد کو ایسے ایسے خطرناک الفاظ سے پکارتی ہے کہ اگر اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فرشتے آمین کہنے میں شامل ہوویں اور آمین کہہ دیں اور اس کی وہ بد دعا قبول ہوجاوے تو شاید اللہ تعالیٰ پر اسے کتنی بڑی بدظنی اور ناراضی ہو۔آیات میں جو میں نے پڑھ کر سنائیں ہیں اللہ تعالیٰ ایک خاص صابر آدمی کا ذکر فرماتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک بیوی تھی جس کا نام ہاجرہ تھا اور وہ شاہ مصر کی لڑکی تھی اس کے باپ نے اسے بہت بڑی دولت اور مال دے کر بیاہ دیا تھا۔وہ چھوٹی عمر کی تھیں اور ان کو حمل ہوگیا۔جب حمل ہوگیا تو حضرت ابراہیم کی پہلی بیوی نے اسے گھر سے نکال دیا اور اس کا سارا مال رکھ لیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا کہ خواہ وہ کچھ کہے تم اس کے گھر چلی جائو۔پس وہ چلی گئی جب لڑکا تولّد ہوا تو پہلی بیوی نے حضرت ابراہیم سے کہا کہ میں نے تم سے اقرار لیا ہوا ہے کہ جو میں کہوں اسے تم پورا کرو۔پس ان ماں بیٹے کو ایسے جنگل میں چھوڑ آئو جہاں نہ دانہ ہو نہ پانی ہو نہ سبزی وہ اسے ایک جنگل میں پہنچانے کے واسطے لے گئے۔جب وہاں چھوڑا تو ہاجرہ نے پوچھا تم یہاں ہم کو کس کے حکم سے چھوڑ چلے ہو؟ حضرت ابراہیم نے کہا اللہ کے حکم سے۔ہاجرہ بولی اب جائو اب ہم تمہاری کچھ پرواہ نہیں کرتے۔تھوڑا سا پانی ان کے پاس تھا جب وہ خرچ ہوگیا تو بچے کو پیاس لگی۔ماں کا دودھ خود پیاس کے سبب سے خشک ہوگیا تھا۔پس بچہ شدت بھوک پیاس سے زمین پر ایڑیاں مارنے لگا۔گویا اس بھوک پیاس سے اب اس کی جان نکلتی ہے۔اس کی والدہ نے بڑے صبر سے کام لیا۔پھر وہ ایک پہاڑی پر گئیں جس کا نام صفا ہے۔حاجی لوگ اس جگہ کو خوب جانتے ہیں اور لگی پہاڑیوں پر ادھر ادھر دوڑنے کہ شاید کوئی بستی یا گائوں نظر آوے مگر جب ناامید ہوکر واپس آئیں تو دیکھا کہ بچے کے پائوں کے نیچے سے آب زمزم جاری ہے۔پھر وہاں ایک قافلہ آیا۔اس نے کہا کہ اگر کہو تو یہاں ایک سرائے بنالیں۔انہوں نے کہا کہ پانی کی سرداری میری رہی۔پس اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اس مقدس شہر کو آباد کیا جس کا نام مکہ ہے اور جہاں آج ساری دنیا کے مسلمان حج کو جاتے ہیں۔دیکھو یہ سب کچھ صبر ہی کا نتیجہ تھا۔سنو! جس گھر میں کوئی مصیبت یا تکلیف آتی ہے اللہ تعالیٰ