خطابات نور — Page 35
صحبت صادقین {تقریر فرمودہ نومبر۱۸۹۹ء بر موقع تقریب جلسہ ء الوداع } (التوبۃ :۱۱۹) ہر ایک مریض و بیمار کے لئے ضروری ہے کہ اگر وہ اپنی زندگی اور صحت کی کچھ بھی قدر جانتا ہے تو کسی تجربہ کار طبیب کے حضور حاضر ہو اور اپنی بیماری کے حالات عرض کرے اور پھر صبر اور استقلال کے ساتھ اس کے علاج اور طبی مشورہ سے فائدہ اٹھائے۔گھبرائے نہیں! بے دل نہ ہو! جلدبازی نہ کرے! بد پر ہیز نہ ہو۔طبیب کی رائے میں اپنی رائے کا دخل نہ دے اور نہ کسی دوسرے کی رائے کو اس پر مقدم کرے اور پوری احتیاط اور ہوشیاری کے ساتھ اس کے تجویز کردہ نسخہ کو استعمال کرے۔یہ قاعدے اور اصول ہیں جو ہر مریض کو اختیار کرنے چاہئیں۔اگر وہ اپنی جان کی پرواہ کرتا ہے۔ایسا مریض اگر اس کا مرض حد علاج سے باہر نہیں ہوگیا۔یعنی مرض اس پر پورا پورا اثر کرکے اس کے قویٰ کو مضمحل اور بیکار نہیں کرچکا ضرور ہے کہ اس تجربہ کار طبیب سے فائدہ اٹھائے۔لیکن اگر مرض اس کو کھا چکا ہے اور علاج کے لئے کوئی وقت اور موقع باقی نہیں رہا تو گو وہ مریض بچ نہ سکے تاہم کسی نہ کسی حد تک فائدہ اٹھائے گا۔لیکن اگر مریض ان قواعد اور اصول کی پیروی نہیں کرتا اور جلد بازی اور عجلت سے کام لیتا ہے تو طبیب اس کی کیا پروا کرے گا۔کچھ بھی نہیں اور وہ شخص جس سے طبی مشورہ لیا جاوے، جس کی صحبت میں رہ کر اپنے دکھوں کا علاج کیا جاوے تجربہ کار ہونا ضروری ہے۔اس اصل کو یاد رکھنے کے بعداب یہ سمجھنا چاہئے کہ امراض دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو جسمانی امراض ہوتے ہیں اور دوسرے روحانی، جسمانی امراض کا اثر بھی روح پر پڑتا ہے۔اس لئے سرور عالم فخر ولدآدم صلی اللہ علیہ وسلم نے علوم کی تقسیم بیان فرماتے ہوئے یہی فرمایا العلم علمان علم الابدان وعلم الادیان(الفوائد المجموعۃ کتاب الفضائل۔فی فضائل العلم و ما ورد فیہ لما لم یصح)۔علم الابدانکو علم الادیان پر مقدّم اسی لئے کیا ہے۔یہ مسئلہ بہت ہی صاف اور واضح ہے کہ جسمانی امور اور حوادث کا اثر روح پر ضرور پڑتا ہے۔