خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 305 of 660

خطابات نور — Page 305

اور غم سے نڈھال ہو کہ اس کی بیوی یا بچہ مرگیا ہے کیونکہ ہمارے پاس تو اس سے بہت بڑھ کر چیز ہے جبکہ کوئی معمولی حاکم کسی کے ساتھ ہو تو وہ نہیں گھبراتا۔لیکن یہاں تو اللہ تعالیٰ وعدہ کرتا ہے  پھر گھبرائو کیوں ہو؟ میں نے بعض آدمیوں کو ایسے موقع پر نصیحت کی ہے۔چونکہ انسان کی عادت ہے کہ وہ ملزم نہیں ہوتے۔اس لئے میں نے دیکھا ہے کہ ایسے موقع پر بہت سی آیات پڑھ دیتے ہیں۔بعض نے کہا کہ حضرت یعقوبؑ روتے رہے اور اندھے ہوگئے مگر یہ بات غلط ہے۔قرآن شریف میں تو صرف اتنا ہے۔(یوسف :۸۵) اور اس کے معنے ہیں۔آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔غرض حزن کا حکم نہیں۔ہاں فطرتاً بے شک ہوتا ہے۔پھر مومن کو کسی کی جدائی کیوں اتنا غم میں ڈالے جب کہ خدا فرماتا ہے۔ (النساء :۱۳۱)۔(۳۹ لغائت ۴۴) اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہر وقت سعی فی الدین کے لئے تیار رہنا۔ظاہری اور باطنی فرمانبرداری میں کسی دوسرے کو خدا کا مقابل خیال میں نہ لانا۔ناپنے میں، تولنے میں عام طور پر بھی کسی شخص کے نقصان کاروادارنہ ہونا۔کسی قسم کی شرارت کو دنیا میں نہ پھیلانا۔(الاعراف : ۸۶) (۴۵ لغائت ۴۹) جن کا باہم بگاڑ ہو ان میں صلح کرانا۔ایمان میں ترقی کرنا۔خدا تعالیٰ کا نام درمیان آجاوے تو خدا تعالیٰ کے نام کی عظمت سے دل میں دھڑکا پیدا کرنا۔توکل کرنا۔نماز کو ٹھیک درست کرنا۔خدا نے جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کے لئے تیار رہنا (سورۃ انفال کے شروع میں ۵ آیتیں) (الانفال :۲) کا خصوصیت سے اقرار بیعت میں تم سے وعدہ لیا ہے۔پس اس کو یاد رکھو۔یہ باتیں ہیں جو ایمان کے شعبے سکھلاتی ہیں۔اگر یہ خطبہ خدا کے فضل سے تمہیں لکھا ہوا مل گیا (الحمد للّٰہ کہ حضرت خلیفۃ المسیح سلمہ اللہ تعالیٰ کی یہ خواہش میرے قلم سے پوری ہوئی۔ثم الحمدللّٰہ علٰی ذالک۔ایڈیٹر) تو پھر کوشش کرو کہ یہ باتیں تم میں پیدا ہوں تاکہ تم مومن کامل بن جائو۔ممکن ہے کہ بعض باتیں رہ بھی گئی ہوں تاہم میرا خیال ہے کہ بہت سی آگئی ہیں۔پھر