خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 306 of 660

خطابات نور — Page 306

حدیث میں بھی ایمان کے شعبوں کا ذکر ہوا۔ان میں سے (۵۰) قدر خیروشر کا ماننا بھی ہے۔اس کا اصل قرآن مجید میں موجود ہے، (الفرقان :۳)۔خلق خیروشر اسی سے نکلا ہے اور اسی کا نام تقدیر ہے۔اسی مسئلہ تقدیر پر ساری بلند پروازیاں اور کوششیں موقوف ہیں۔فلاسفروں کے فلسفہ کا اعلیٰ مقام یہی ہے اور تمدن کی جڑ یہی ہے جو مسئلہ تقدیر نہیں مانتا وہ انسان نہیں؟ تقدیر کے معنے اندازہ کرنے کے ہیں اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے آنکھ کا کام دیکھنا ہے اور کان کا کام سننا۔اب ان سے یہی کام لیا جائے گا۔انسان کو اللہ تعالیٰ نے دو قسم کے قویٰ دئیے ہیں۔ایک وہ جن پر اس کا کوئی دخل و تصرف نہیں جیسے اس کے اندر خون بن رہا ہے۔ہڈیاں بن رہی ہیں وغیرہ۔اب ان پر کوئی حکم شریعت کا نہیں۔زبان ہے۔وہ مختلف قسم کے ذائقوں کو بتاتی ہے اور اگر اس کی ہزار منت کی جاوے کہ تو میٹھے کو کھٹا کہہ دے وہ کبھی نہیں کہے گی ایسا نہ کرنے پر کوئی سزا نہیں لیکن دوسری طرف اگر زبان سے خواہ کفر کا کام لیا جاوے۔خواہ ایمان کا وہ اطاعت کے لئے تیار ہے۔اسی پر قیاس کرکے اس مسئلہ کی حقیقت سمجھ میں آجاتی ہے مگر مسلمانوں کا عجیب حال ہے۔ہرچہ گیردعلتی علت شود۔اگلے زمانہ میں آدمی تو تھوڑے تھے اور جنگ کے لئے آج کل کی سی ایجادات نہ ہوئی تھیں۔اس لئے لڑائی کا یہ طریق تھا کہ فریقین میں سے سب سے بڑے پہلوان نکلتے اور اس کی کشتی ہوتی جو ہارتا اس کی شکست اس فریق کی شکست ہوتی جس کے ساتھ اس کا تعلق ہوتا۔اب نہ اس قسم کی جنگیں ہیں نہ اس کی ضرورت۔مگر مسلمان ہیں کہ برابر کشتیاں لڑتے جاتے ہیں اور ہزاروں روپیہ آئے دن ان کشتیوں پر مسلمانوں کا تباہ ہوتا ہے۔اسی طرح پر بارود سے ہزاروں کام لئے جاتے تھے۔اب وہ اصل غرض جاتی رہی اور اس کی جگہ شب برات رہ گئی جس کا نتیجہ بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ آپ جلیں اور دوسروں کو جلائیں اور پھر یہ بھی نہیں دیکھتے کہ ہمیں اس قسم کے مشقوں کی ضرورت بھی نہیں جو بارود کے ذریعہ کی جاتی تھیں۔اسی طرح ہوا کے عجائبات کے تجارب کے لئے پتنگ وغیرہ چڑھاتے تھے اور ان سے عمدہ عمدہ کام لئے جاتے تھے۔مگر وہ غرض تو جاتی رہی۔مسلمانوں کو ایک شغل مل گیا اور آئے دن کوٹھوں سے گر کر مرتے ہیں۔اسی طرح پر مسئلہ تقدیر کا حال ہے ہر کام کے مراتب ہیں