خطابات نور — Page 304
(المائدۃ :۵۲) پھر (۲۷) مخالف یہود و نصاریٰ کو جو ہمارے مذہب پر چھیڑچھاڑ کرتے ہیں۔ان کا قرب نہ کرنا(المائدۃ :۵۸)۔پھر (۲۸) جو اللہ اور رسول کے مقابلہ کرے اس کے ساتھ پیار نہ کرنا۔(المجادلۃ :۲۳)۔(۲۹) اللہ کے ساتھ ہمیشہ محبت کو بڑھائے رکھنا۔(البقرۃ :۱۶۶) (۳۰) جہاں دینی مشکلات پیش آئیں جماعت ہو یا ملک یا فعل اسے ترک کرنا یعنی وہاں سے ہجرت کرنا۔(۳۱) اللہ کی راہ میں کوشش کرنا۔(۳۲‘۳۳) ہجرت کرنے والوں کے لئے جگہ بنانا اور جگہ بنانے کی کوشش کرنا۔(۳۴) مہاجرین کو ہر قسم کی مدد دینے کے لئے تیار رہنا۔چنانچہ فرمایا سورۃ انفال رکوع ۶(الانفال :۷۳) سے آخر سورۃ تک۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن وہی ہوتے ہیں کہ جو مہاجرین کو جگہ دیتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں۔مہاجرین کی نصرت اور ان کو جگہ دینا ایمان کی تکمیل کے لئے ضروری ہے اور نصرت دینا مومن کی شان ہے۔(۳۵)مسلمانوں کے ساتھ برادرانہ سلوک سے پیش آنا۔چنانچہ فرمایا(الحجرات :۱۱)۔(۳۶) کوئی غلطی سے بیاج کا معاملہ ہوجاوے تو اسے ترک کردینا۔(البقرۃ :۲۷۹)۔(۳۷) سست نہ ہونا۔(۳۸) بہت غمگین نہ ہونا۔(اٰل عمران :۱۴۰)۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سست نہ ہو اور غم نہ کھائو کیونکہ یہ دونوں باتیں مومن کی شان سے بعید ہیں۔مجھے بہت دکھ پہنچتا ہے جب کہ ایک مومن گھبرا جاوے