خطابات نور — Page 299
کہی ہے جو دشمن کے منہ سے نکلی ہے۔میں جو بات تمہیں سنا نی چاہتا ہوں وہ یہی قرآن مجید ہے۔اب معلوم نہیں کتنا عرصہ ان باتوں میں نکل گیا۔اب میں تمہیںاسی قرآن کی چند آیتیں سناتا ہوں مگر میں پڑھتا ہوں کہ میں لا الٰہ الا اللّٰہ کو مانتا ہوں محمدرسول اللہ کو خاتم الانبیاء اور خاتم الرسل یقین کرتا ہوں بلکہ خاتم الانسان مانتا ہوں۔ان دونوں پر یقین کے بعد دعا کا پھر عقد ہمت اور استقلال کا پھر قرآن کا فضل مجھے ملا ہے۔یہ اصل منشا ہے پروگرام میں لکھا ہے کہ ایک گھنٹہ بیان کروں اور آوازیں آئیں کہ نہیں جب تک حضور چاہیں بیان کریں مگر میں یوم اور بعض یوم کے تحت میں اس گھنٹہ کو بھی رکھ لیتا ہوں اور تمہیں قرآن سناتا ہوں۔ (التوبۃ :۱۱۱، ۱۱۲) یہ گیارہویں سپارے کی تھوڑی سی آیتیں ہیں جو میں تمہیں سنانی چاہتا ہوں۔میں درد دل سے ہاں سچے درد دل سے سناتا ہوں تم درد مند دل لے کر سنو۔امیر المؤمنین کی دعا قوم کے لئے: میں تمہارے لئے کس کس قسم کی دعائیں کرتا ہوں اگر دشمن کو بھی علم ہو تو وہ حیران ہوجاوے۔ان دعائوں میں سے ایک کے چند فقرے تمہیں سناتا ہوں تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ میں تمہارے لئے کیا چاہتا ہوں میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ترقی دے اس نے تم کو جو سچائی عطا کی ہے اس کی قدر تمہیں سکھائے تاکہ تم اس کا شکر کر سکو۔وہ تمہیں اس سچائی پر قائم رہنے کی توفیق دے اور استقامت بخشے تم دین کے خادم بنو‘ روح القدس سے موید ہو اور امراض جسمانیہ اور روحانیہ آفات سماویہ اور ارضیہ اور ہر قسم کے فتن سے بچ جائو۔تم مظفر و منصور ہوجائو اور اسلام کی سچائی کے مظہر اور نمونہ ٹھہرو۔