خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 300 of 660

خطابات نور — Page 300

یہ دعائیں میں دردِ دل سے کرتا ہوں اور اسی نے یہ درد مجھے دیا ہے جس نے مجھے یہ مقام عطا فرمایا۔اس لئے میں اپنے لئے بھی اس مقام کی ذمہ داریوں اور مشکلات کو دیکھ کر ابن عمر ان کی طرح دعا کرتا ہوں۔اللّٰہ علیہ وسلّم (طٰہٰ :۲۶ تا ۲۹) یعنی اے میرے مربی میرے سینہ کو کھول دے اور میرے لئے میرے فرض منصبی کو آسان کردے میری زبان کو گویائی عطا فرماتا کہ میری باتیں سننے والے میرے کلام کو سمجھ سکیں۔وزراء: پھر میں یہ بھی دعا کرتا ہوں کہ میرے بھی وزراء ہوں۔جو میرے بازو کو قوی کریں اور میرے بوجھ کو ہلکا کریں ان کی غرض اور مقصود اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے وہ مومن ہوں مخلص ہوں،محسن ہوں۔ان کے ہر کام میں ہر حرکت و سکون میں اللہ ہی کی رضاء اصل منشاء ہو وہ دنیا اور اس کی خیالی عزتوں اور بڑائیوں سے اپنے نفس کو پاک کرنے کی توفیق پائیں عاجزی اور فروتنی سے دین کی خدمت کرنے والے ہوں۔واعظانِ سلسلہ: پھر میں چاہتا ہوں اور ویسے چاہتا ہوں کہ تم میں واعظ ہوں اس خواہش کے لئے تڑپتا ہوں روتا ہوں یہ واعظ جلوہ بر محراب و منبرمی کنند کے مصداق نہ ہوں بلکہ یہ کہ ان میں اخلاص کامل ہو وہ فی الحقیقت یَدْ(اٰل عمران :۱۰۵) وہ نرے قوال ہی نہ ہوں بلکہ عملی رنگ میں واعظ ہوں اور انہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کی حقیقی راہ کا علم ہو اور اللہ ہی کی رضا کے لئے کام کرنے والے ہوں سست نہ ہوں صابر اور جفاکش ہوں ایسے لوگ جب خشیۃ اللّٰہسے کام کریں گے تو میں خدا تعالیٰ کے فضل سے یقین کر سکتا ہوں کہ دنیا کے لئے ایسے وجود بابرکت ہوں گے۔یہ میری خواہشیں ہیں اور میں اپنے ربّ پر یقین رکھتا ہوں کہ چونکہ یہ اسی کے لئے ہے وہ جب چاہے گا ان کو پورا کر دے گا۔اب اس کے بعد ان آیات کا مطلب تمہیں سنانا چاہتا ہوں۔ان آیات اللہ میں اول اللہ کا لفظ آیا ہے اللہ کے معنے ہیں تمام کاملہ صفات سے موصوف اور تمام بدیوں سے منزّہ ذات اور حقیقی معبود جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔اس نام پر قربان ہوجائوں جی