خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 298 of 660

خطابات نور — Page 298

پس تم اس راہ سے بچتے رہو تم نے اگر دھوکا سے مال دے دیا اور ہم نے فریب سے لیا تو اس کا وبال ہماری جان پر ہے تو پھر تم کیوں ہمارا معاملہ اللہ پرنہیں رکھتے؟ ہمارے لباس پر حضرت صاحب کے لباس پر جو اعتراض کرتے ہیں وہ ناواقف ہیں اسی شہر میں ایک ہندو نے مجھے کہا کہ حضرت صاحب بادام روغن کا پلائو کھاتے ہیں۔میں نے اس کو یہی جواب دیا کہ ہمارے مذہب میں حلال ہے۔سید عبدالقادر گیلانی ؒنے ایک مرتبہ پانچ سو پونڈ کا صافہ پہنا ہوا تھا کسی نے اعتراض کیا کہ ایسا گراں قیمت تو عباسی خلیفہ نے بھی نہیںپہنا ہوا تو آپ نے جواب دیا کہ خدا کہتا ہے پہن لو ہم نے پہن لیا۔غرض طعن کا دروازہ کھولنا نالائق آدمیوں کا کام ہے اس سے بچو کوئی کہہ سکتا ہے کہ اتنی باتیں جو کیں ہیں یہ بھی لینے کا ایک طریق ہے اور ایسے نیک دل بھی ہیں جو یہ یقین کرتے ہیں جو کچھ کہا ہے وہ دل سے کہا ہے۔جماعت میں اس قسم کے سوال پیدا ہوجاتے ہیں اب کثرت کس طرف ہو اور قلت کس طرف میں نہیں کہہ سکتا۔ہاں میں نے جو کچھ کہا ہے درد دل سے کہا ہے اب اپنے خیال کے موافق جو کچھ کسی کا جی چاہے سمجھ لے (بنی اسرائیل :۲۱)۔چندے تو ضرور دینے پڑیں گے دل سے دو گے بہتر بدلہ ملے گار یا اور لحاظ سے دو گے تو کچھ بھی فائدہ نہیں۔غرض میں نے تمہیں بہت کچھ سکھ کی باتیں سنائی ہیں لا الٰہ الا اللّٰہ پر پکے رہو‘ دعا عقد ہمت اور استقلال سے کام لو خدا تعالیٰ کی رضا کی کوشش کرو اور اس کی راہ معلوم کرنے کی ایک ہی تجویز ہے کہ قرآن مجید کو سمجھو۔خدا تعالیٰ کیسے کیسے لوگوں سے عجیب بات کھلوالیتا ہے کرزن گزٹ ایک اخبار دہلی سے نکلتا ہے اس نے جہاں حضرت صاحب کی وفات کا ذکر کیا وہاں یہ بھی لکھا کہ اب مرزائیوں کے پاس رہ ہی کیا گیا ہے ان کا سرکٹ چکا ہے اب جو شخص ان کا امام بنا ہے اس سے اور تو کچھ نہ ہوگا وہ قرآن سنایا کرے گا۔میں نے اس فقرہ کو پڑھ کر سجدہ شکر کیا اور کرتا ہوں خدا کرے کہ تم قرآن ہی سنو اور میں قرآن ہی سنائوں۔یہ اس نے بہت ہی عمدہ بات