خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 264 of 660

خطابات نور — Page 264

قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لما خلق اللّٰہ آدم مسح ظھرہ فسقط من ظھرہ کل نسمۃ ھو خالقھا من ذریتہ الٰی یوم القیامۃ وجعل بین عینی کل انسان منھم و بیصا من نور ثم عرضھم علٰی آدم فقال ای ربّ من ھٰولاء قال ھٰولاء ذریتک فرایٰ رجلًا منھم فاعجبہ و بیص مابین عینیہ یقال ای رب من ھٰذا قال ھٰذا رجل من اٰخر الامم من ذریتک یقال لہ داؤد قال ربّ کم جعلت عمرہ قال ستین سنۃ قال ای ربّ زدہ من عمری اربعین سنۃ۔فلما انقصی عمر آدم جاء ہ ملک الموت فقال اولم یبق من عمری اربعون سنۃ قال اولم تعطھا الابنک داؤد قال فجحد آدم فجحدت ذریتہ ونسی آدم فنسیت ذریتہ وخطی آدم فخطئت ذریتہ۔ھٰذاحدیث حسن صحیح و قدروی من غیر وجہ عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔تفسیر درمنشور میں ابن ابی حاتم و ابن مندہ و ابوالشیخ و ابن عساکر سے اس مضمون کی روایات کثیرہ اس کی تائید میں موجود ہیں اور ان میں یہ لطیفہ قابل قدر ہے کہ جملہ نسی آدم ونسیت ذریتہ و جحد آدم فجحدت ذریّتہٗ کو ابوہریرہ کا قول بتایا ہے اور واذا اخذ ربک من بنی آدم کے نیچے بیان کیا ہے۔اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایک عظیم الشان انسان کی عمر سے چالیس برس کم ہوگئے اور ہمارے مرزا جی کو میں آج نہیں کہتا براہین احمدیہ کے لکھتے وقت یا آدم اسکن انت و زوجک الجنۃ کا الہام ہوچکا تھا اور اسے آدم کہا گیا۔پھر اگر یہاں مانا جاوے کہ چار پانچ برس کی کمی ہوئی اگرچہ واقع میں کمی نہیں ہوئی تو آپ لوگوں نے کیوں حسن ظن سے کام نہ لیا۔احادیث صحیحہ سے ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ثابت ہے۔اس میرے بیان کی تصدیق اول ان صدہا بلکہ ہزارہا الہامات سے ہوتی ہے جن کی صداقت مرزا صاحب ۱۳۲۶ مغفور کی زندگی میں ہم دیکھ چکے۔پھر آپ کی کامیابیوں کو آخر آپ کے