خطابات نور — Page 265
بعد الوفات کامیابی اور وحدت سے ہم دیکھ چکے ہیں۔فجزاہ اللّٰہ عنا احسن الجزاء۔عبدالحکیم اگر اس حدیث کا انکار کرے تو تعجب نہیں کیونکہ اس کے نزدیک نجات کی بے انت راہیں اتنی وسیع ہیں کہ انبیا پر ایمان بلکہ ایمان باللہ بھی ضروری نہیں۔مگر وہ اب تک قرآن کریم سے تمسک پکڑتا ہے۔اس لئے اس کو ہم یہ آیت کریمہ سناتے ہیں (البقرۃ :۱۰۷)۔یہاں آیت کا لفظ ایک وسیع لفظ ہے انسانوں پر بھی بولا جاتا ہے۔دیکھو اللہ تعالیٰ ایک ویران بستی پر گزرنے والے کو مخاطب کرکے فرماتا ہے (البقرۃ :۲۶۰)۔یہاں اس گزرنے والے کو آیت فرمایا ہے جو لوگ دنیا میں مامور ہوکر آتے ہیں وہ بھی آیت اللہ ہوتے ہیں اور ان کا اس دنیا سے کوچ کر جانا ان کے عنصری وجود کی نسخ ہوتی ہے۔بلکہ ایک زمانہ ایسا بھی آتا ہے کہ بعض آیات بھول بھی جاویں۔لاکن رحمت الٰہیہ ہم کو عمدہ تسلی بخش ہے۔جس پر ہم ایمان لاکر یقین کرتے ہیں کہ آپ کی اولاد سے آپ سے خیر کان اللّٰہ نزل من السمآء یا کم سے کم آپ کی مثل آنے والا ہے اور نسخ کے ایسے وسیع معنے لینے میں السید عبدالقادر الجیلانی جیسے بزرگ ہمارے ساتھ ہیں۔مسیح کی وفات کا مسئلہ آپ کی زندگی میں مہتم بالشان مسئلہ تھا اور یہی مسئلہ ہم لوگوں کے لئے ہماری زندگی میں بھی وفات المسیح کا مسئلہ مہتم بالشان ہوگیا۔یاد رکھو کبھی دعائوں، صدقہ و خیرات و علاج و معالجہ سے قضائو قدر ٹلتی ہے اور گا ہے صبروشکر اور وَلَنَبْلُوَنَّ کی حکومت سے ہماری تدابیر ٹل جاتی ہیں اور اس عجیب قدرت سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہم کو الایمان بین الخوف والرجاء کا مسئلہ سکھایا گیا ہے اور یہ خوف و رجاء ہمارے لئے دو پر عطا کئے گئے جیسا کہ سیدعبدالقادر الجیلی نے فتوح الغیب میں اس کا بسط فرمایا ہے۔ایک صوفی اور اس کا معظم و مکرم قادری بھی خوشیاں کرتے ہیں اور وہ یقین کرتے ہیں کہ عمر والے الہام میں وہ جیت گئے ان کو میں حضرت السید عبدالقادر الجیلی کا ایک قول سناتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہاں تک وہ قادری اور صوفی مشرب ہیں اگر یہ دوائی ان کے لئے مفید نہ ہوئی تو سلاسل اربعہ کے اقوال بطور حجت ان کے پیش کروں گا۔انشاء اللہ تعالیٰ وماتوفیقی الا باللہ اور اس آپ کے