خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 263 of 660

خطابات نور — Page 263

مرزا کو ہلاک کردیا اور اس کا نام و نشان نہیں چھوڑا۔وہ یہ حملہ ہے کہ میرزا صاحب قبل از وقت انتقال کرگئے اور ان کے الہامات کی رو سے جو ان کی عمر چاہئے تھی اس میں سے چار پانچ برس تو ضرور ہی کم ہوگئے کیونکہ عمر کی نسبت اصل الہام یہ تھا کہ ’’تیری عمر اسی برس کی ہوگی یا پانچ کم یا پانچ زیادہ‘‘۔اس الہام میں علیم و خبیر کی طرف سے یا، یا کا لفظ بعض ایسی طبائع کو جو سماویہ کتب کے محاورات سے نابلد ہیں تعجب میں ڈالتا ہے مگر اس کا سرّ ہم انشاء اللہ تعالیٰ بیان کردیں گے۔سو یاد رہے کہ یہی اعتراض مخالفوں کے اعتراضات کا سرچشمہ ہے باقی تمام اعتراضات اس اعتراض کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔اس اعتراض کے لئے کوئی برہمو اور شریف و متین مسیحی اور فلسفی تیار نہیں ہوا اور نہ ایسے گروہ سے خیال ہوسکتا ہے کہ توجہ کرے۔اس اعتراض کے جوشیلے معترض اڈیٹر اہل حدیث اور امرتسر کے نرم دل، مرنج و مرنجان مرحوم و مغفور انسان عبداللہ الغزنوی رحمۃ اللہ کی طرف تلمّذ کا مدعی عبدالحق ہے۔ہاں ایک امرتسری وکیل بھی ہیں جو ایک طرف تو ہمیں متانت و بردباری کی تعلیم دیتے ہیں اور دوسری طرف علماء کرام اور اپنے خطبائے عظام کو ہماری مخالفت میں تیز قلمیں اٹھانے کی ترغیب دیتے ہوئے ہمیں اور ہمارے امام کو جتنا برا کہنا اس کی ابتدائی کارروائی میں اور جس قدر زور لگانا اس کو مناسب تھا اس سے بہت زیادہ زور لگایا۔اللہ تعالیٰ ہی اس کو اس کا بدلہ دے۔اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِ الْاَعْدَآئِ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِ الْاَعْدَآئِ۔اَللّٰھُمَّ اکْفِنَا شَرَّھُمْ بِمَاشِئْت۔مرزا صاحب مغفور کی کیا عمر تھی جب آپ کا انتقال ہوا۔اس کے لئے میں کوشش میں ہوں کہ پتا لگے مرزا سلطان احمد نے تو ّلد کا سنہ ۳۶،۳۷ بتایا ہے پس اس شمسی حساب سے آپ کی عمر قمری حساب میں چوہتر پچھتر ہوتی ہے اور کوئی اعتراض باقی نہیں رہتا اور حضرت نے نصرۃ الحق میں قریباً یہی لکھا ہے مگر قبل از اطلاع تام خواہ مخواہ اگر مان لیں کہ آپ نے کچھ عمر کم پائی ہے۔تو ایڈیٹر اہل حدیث اور عبدالحق کا علاج ایک حدیث شریف کے نسخہ سے شروع کرتا ہوں۔والشافی ھو اللہ تعالیٰ، ہوالشافی، ترمذی شریف کی تفسیر سورۃ الاعراف اور خلاصۃً مشکوٰۃ باب القدر میں ہے حدثنا عبد بن حمید نا ابو نعیم نا ھشام بن سعد عن زید بن اسلم عن ابی صالح عن ابی ھریرۃ