خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 22 of 660

خطابات نور — Page 22

غمگسار نہیں ہے۔وہاں بھیجا گیا۔بچو غور کرو۔گو اس کو ایک طرف بڑی تکلیفوں کا مقابلہ تھا۔حیرانی، پریشانی اور بے کسی کا سامنا تھا۔مگر دوسرے صرف اندر ہی اندر ایک آواز دینے والے نے اُس عین کنوئیں کی مصیبت کے وقت بھی بڑی سریلی آواز اور دل کے اند وہ کو دور کرنے والی کلام سے اور دل کو باغ باغ کرنے والی آواز سے خوش کیا۔جیسے کلام مجید میں ذکر ہے۔(یوسف :۱۶) جس سے خواہ بظاہر لوگوں کی نظر میں کیسی اشد سے اشد تکلیف ہو تکلیف معلوم نہیں ہوتی۔اس کے بعد اس امیر کے دل میں جس نے اسے خرید کیا تھا اور وہ انہیں غلام بنا کر رکھ سکتا تھا اس کے دل میں محبت ڈال دی، محبت بھی ایسی محبت کہ اس کے بجائے اس کے کہ اسے غلام بناوے گھر کا مالک بنا دیا اور ہر طرح کے آرام، راحت، آسائش اور خوشی وہاں انہیں ملی۔یہاں تک کہ ایک وقت وہ ایک قسم کا بادشاہ ہی بن گیا بہت سے ملکی اختیارات اسے مل گئے۔وہی بھائی معافی کے خواستگار ہوئے جن کو ایک وقت میں جب وہ کنوئیں میں گرانے لگے ہوں گے وہ کہتا ہو گا کہ مجھے کنوئیں میں نہ گرائو۔اب وہی فرمانبرداری کے لئے کمر بستہ ہیں۔بھلا کیا وجہ ہے کہ بظاہر اسباب تو اسی کے مقتضی تھے کہ وہ ذلیل وخوار ہووے لوگوں کا ماتحت اور غلام بنے۔دربدر پھرے۔بھوکا رہے۔مگر وہ برعکس اس کے ہر جگہ ذلت سے بچا۔بلکہ اس کے مخالف آخر اس کے سامنے ذلت سے آئے لوگ اس کے ماتحت بنے وہ کسی کی ماتحتی میں نہ آیا۔بلکہ یہاں تک ترقی کی کہ گویا بادشاہی کے درجے تک نوبت پہنچی۔جانتے ہو اس کی کیا وجہ ہے؟ میں بتا دیتا ہوں۔لڑکو تم جانتے ہو کہ جس لڑکے پر اس کا استاد خوش ہو۔اسے وہ استاد کیسا پیار کرتا ہے۔محبت سے سبق دیتا ہے اسے انعامات دیتا ہے۔کوئی لڑکا اسے مار نہیں سکتا کیونکہ اگر کوئی اسے مارنے یا لڑنے کا ارادہ کرے استاد اسے روک دیتا بلکہ الٹی اس لڑکے کو سزا دیتا ہے۔اس کی کیا وجہ ہے کہ استاد اس لڑکے سے پیار کرتا ہے انعام دیتا ہے اور اگر کوئی اسے مارنے لگے تو اس کو سزا دیتا ہے، اس کی صرف یہی وجہ ہے کہ وہ لڑکا اپنے استاد کا حکم مانتا سبق یاد کر کے اسے خوش کر لیتا ہے اس طرح پر وہ آرام میں رہتا ہے اور دوسرے لڑکوں میں اور اس میں بھی فرق اور تمیز ہوتی ہے۔پس اب ذرا سوچو کہ جب ایک چھوٹے