خطابات نور — Page 21
رحمن رحیم اور مالک یوم الدین ہو سوائے اسلامی تعلیم کے اور کہیں نہیں مل سکتا۔وہ وہی خدا ہے جس کا بیان لَا اِلٰـہَ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ میں ہے جب ہمیں جس خدا کی ضرورت تھی اور جو ہماری ربوبیت کر سکتا ہے مل گیا تو ہم کو چاہیے کہ جس طرح وہ فرماتا ہے اس کے مطابق عملدرآمد کریں تا کہ اس کی فرمانبرداری سے ایسے عظیم الشان بادشاہ کی مہربانیوں کے مورد بنیں جو اس دنیا کے بادشاہوں سے اعلیٰ اور بے تشبیہ ہے اور ہر ایک امر میں اس کی کلام پاک اور اس کے رسول سے مشورہ لیں کیونکہ وہی ایک ہے جو ہماری بچپن بڑھاپے اور اس دنیا کے بعد کی ضرورتوں کو جانتا اور پورا کر سکتا ہے۔اس موجودہ حالت میں تمہیں کس مشورہ کی ضرورت ہے یہ تمہاری بچپن کی عمر ہے تو اس کے مناسب حال مشورے ہی کی ضرورت ہے اس لئے میں تم کو ایک بچے ہی کا قصہ جو قرآن شریف نے بیان فرمایا ہے سنا دیتا ہوں اور وہ اس طرح پر ہے کہ ایک بچہ یوسف نام جس کے گیارہ اور بھائی تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑے مضبوط زبردست تھے کیونکہ جب انہوں نے اس کو اپنے باپ سے باہر لے جانے کے لئے مانگا تو ان کے باپ نے اس بچے کی کمزوری اور ناتوانی پر رحم کر کے کہا کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اس کو بھیڑیا نہ کھا جاوے۔دوسرے بھائیوں کا خطرہ نہیں کیا کہ ان کو بھی بھیڑیا کھا جاوے گا کیونکہ وہ مضبوط اور ہوشیار تھے اور ان کا جواب (یوسف :۹) جس کا ترجمہ ہے کہ ہم ایک مضبوط جماعت ہیں بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔خیر قصے سے مطلب نہیں انہوں نے جوں توں کر کے اس کو باپ سے جد اکر کے جنگل میں جا کر کسی اندھے کنوئیں میں گرا دیا (بچو خیال رکھو وہ بھی تمہارے جیسا ایک بچہ ہی تھا اس کا معاملہ سناتا ہوں) خدا نے جس حالت میں چاہا اسے کنوئیں میں رکھا۔کچھ عرصے کے بعد ایک قافلہ وہاں آیا قافلہ والوں نے یوسف کنوئیں سے نکال کر اپنے ساتھ لیا اور دور دراز ملک مصر میں جا کر اسے کسی امیر کے ہاں تھوڑی سی قیمت کے بدلے میں فروخت کر دیا اور اس کی ذرا بھی پروا نہ کی۔اب جانتے ہو کہ وہ چھوٹی سی عمر میں جس میں شاید کوئی اور بچہ ذراسی دیر بھی ماں سے جدا ہونا گوارا نہیں کر سکتا پیارے ماں باپ سے بڑی بے رحمی سے توڑ کر الگ کر دیا گیا۔ملک سے بے ملک کیا گیا۔زبان وہاں کی بالکل سمجھ نہیں سکتا۔گویا اس کے واسطے سارے لوگ حیوان ہی ہوں گے اور وہ ایسی جگہ ہے کہ بظاہر کوئی حامی ومددگار وتسلی دہ