خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 23 of 660

خطابات نور — Page 23

سے استاد یا حاکم کو خوش کر کے آدمی خوش رہ سکتا ہے تو کیا اس استادوں کے استاد اور حاکموں کے حاکم کو یعنی اللہ کو جو زمین وآسمان کا بادشاہ ہے خوش کر کے کوئی ذلیل اور خوار ہو سکتا یا کوئی اور اسے ذلیل یا خوار کر سکتا ہے۔ہرگزہرگز نہیں۔وہ بڑی آرام وآسائش میں رہتا ہے۔اللہ اسے دوسرے لوگوں سے اچھی طرح پر محبت سے رکھتا ہے اور اس کی ساری مرادیں پوری کرتا ہے۔اس چھوٹے بچے نے بھی جس کا نام یوسف تھا اپنے اللہ کو خوش کر لیا تھا وہ وہی کام کیا کرتا تھا جو اس کے مولیٰ کو پسند ہوتے تھے۔وہ چوری، جھوٹ‘ چغلی، غیبت، حرص، طمع، سستی، بزدلی اور شہوات نفسانی سے اور اور جتنی ُبری عادات خدا کو ناراض کرنے والی ہیں سب سے بچتا تھا۔دیکھو یوسف کو اسی عورت نے جن کے گھر میں وہ رہتا اور پرورش پاتا تھا حرام کاری کے لئے کہا تو اس نے ذرا بھی خوف یا طمع نہ کی۔خدا کا خوف کیا۔محسن (محسن کے معنے بتائیں گے) بن گیا اور کہہ دیا توبہ توبہ اللہ کی پناہ ایسا کام ہرگز ہرگز نہیں کروں گا۔اللہ نے تو مجھے ایک بڑی عمدہ جگہ دی ہے وہ ایسی حالت ہے کہ اس کے مقابلہ میں ایسی گندی خوشیاں ہیچ اور ناکارہ ہیں اور اس حرام کاری کے کام سے باز رہا۔ایسا نہ ہو کہ خدا ناراض ہو جاوے۔اسی طرح وہ ہر ایک کام میں اس بات کا خیال رکھتا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ خدا ناراض ہو جاوے۔غرض جب اس نے خدا کو ناراض نہ کیا اور جس طرح یوسف نے اللہ تعالیٰ کو خوش کیا اللہ تعالیٰ نے بھی یوسف کو خوش کر دیا اور اسے ملک میں بڑی طاقت عنایت فرمائی کیونکہ وہ بڑا نیک کردار اور محسن تھا اور فرمایا کہ ہم سارے لوگوں کو جو ایسے کام کرتے ہیں ایسا ہی آرام اور انعام دیا کرتے ہیں۔محسن کے معنے یہ ہیں کہ ہر وقت اللہ کو حاضر ناظر جان لے۔جب کوئی کام کرے دل میں دھیان ہو کہ اللہ دیکھتا ہے۔بچو ! خدا نے اس کی بڑی قدر کی اور اس کو بڑی عزت دی یہاں تک کہ اپنی پاک کتاب میں اس کے قصے کو احسن القصص بیان فرمایا ہے۔بھلا اس سے بڑھ کر اور کیا مرتبہ ہو گا کہ الٰہی دفتر میں مخلصوں، سچوں، نیکوں میں اس کا نام درج ہو گیا۔تم بھی اگر چاہتے ہو کہ اس جیسے بن جائو۔خدا تم سے پیاری پیاری باتیں کرے اور تم کو سچی کامیابیاں عنایت فرما وے۔تم دنیا اور آخرت میں سچی خوشی پائو تو تم کو بھی چاہئے کہ یوسف ؑکے پائوں پر پائوں مارو تا تم ویسی ہی کامیابی حاصل کر لو …… اس کے قصے کو آنکھوں کے سامنے رکھ