خطابات نور — Page 243
لوگ اس آیت کے معنوں میں لفظ منکم پر اٹکے ہیں کہ اس سے یہ مراد ہے کہ تم میں سے کیا معنے صرف مسلمانوں میں سے جو حاکم ہو اس کی بات مانو۔لیکن یہ بات درست نہیں کیونکہمنکم کی مثالیں اور بھی قرآن شریف میں موجود ہیں جیسا کہ دوزخ والوں کو کہا جائے گا(الانعام:۱۳۱) کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے۔اس میں کفار کو کہا گیا کہ رسول تم میں سے آئے۔ظاہر ہے کہ وہ کافر تھے اور یہ مومن تو رسول کافروں میں سے کس طرح ہوئے۔پس اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول ان کے زمانہ میں تھے ان کے ملک میں تھے اور ان کی طرف رسول ہو کر آئے تھے اس تعلق کے لحاظ سے ان کو منکم کہا گیا۔قدرت خدا وندی کے عجائبات میں سے ایک یہ بات ہے کہ چونکہ مسلمانوں کو آئندہ زمانہ میں ایسے واقعات پیش آنے تھے کہ وہ عیسائیوں کے زیر حکومت رہیں گے اس واسطے ابتدائے زمانہ نبوی میں بھی اس کی نظیر قائم کی گئی تھی کہ مسلمانوں کو عیسائیوں کی ماتحتی میں کس طرح رہنا چاہیے۔ابتدائے اسلام کے زمانہ میں جب کہ کفار نے مسلمانوں کو عرب میں دکھ دینا شروع کیا تو آنحضرت نے صحابہ کو فرمایا کہ حبشہ میں چلے جائو چنانچہ حبشہ کے عیسائی بادشاہ کے پاس آپ کے صحابہ کو بہت امن ملا۔مسلمانوں کو عیسائی سلاطین کے ماتحت امن ملنے کی طرف قرآن شریف کی یہ آیت بھی راہ نمائی کرتی ہے(المائدۃ:۸۳)اور تو ضرور نصارٰی کو مومنوں کے ساتھ مودت کرنے میں دوسرے لوگوں سے بڑھ کر پائے گا۔اس ملک کے ہندوئوں نے خدا تعالیٰ کے اس فضل و احسان کا شکریہ ادا نہیں کیا جو کہ آیت کریمہ (النحل :۱۵) جہازوں کی آمد ورفت کا جو نتیجہ ہے وہ خدا کا ایک فضل ہے جس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا اور اس سے کیا تجارت میں اور کیا ساہوکارہ میں اور کیا زراعت میں اور کیا ملازمت میں سب سے زیادہ فائدہ ہندوئوں نے ہی حاصل کیا ہے لیکن انہوں نے ہی سب سے زیادہ ناشکری کی اور ان سے اس سے زیادہ کچھ امید بھی نہیں ہو سکتی کیونکہ جو مشرک اپنے حقیقی محسن خالق مالک ربّ کو چھوڑ کر ایک پتھر کے آگے سر جھکاتا ہے اس سے کیا امید ہو سکتی ہے کہ وہ کسی انسان کے احسان کو شکریہ کے ساتھ دیکھے گا