خطابات نور — Page 244
کیونکہ خدا تعالیٰ کے احسانات کے مقابلہ میں انسان کے احسان ہی کیا ہو سکتے ہیںوہ جس نے خدا کے ساتھ ہی بغاوت کی ہے وہ اپنے ہم جنس انسان کے ساتھ کب نیک سلوک کرے گا؟خدا تعالیٰ کے حضور اس ناشکر گزاری میں ہندو لوگ جو حصہ لے رہے ہیں وہ تو ظاہرہی ہے لیکن آریہ لوگ دراصل ان سے بڑھ گئے ہیں کیونکہ خدا کی مخلوق ہو کر وہ کہتے ہیں کہ نہ ہماری روح کا وہ خالق ہے اور نہ ہمارے جسم کے مادہ کا وہ خالق ہے پھر زمانہ کو بھی خدا کا مخلوق نہیں مانتے۔یہ کس قدر ناشکری ہے جو ان لوگوں سے ظاہر ہو رہی ہے گورنمنٹ برطانیہ کے ذریعہ سے آریوں کو جو آرام اور فائدہ حاصل ہوا ہے زراعت میں اس سے ظاہر ہے کہ مدت کی بات ہے ایک دفعہ میں نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ پانچ کروڑ روپیہ کی جائیداد ہر سال مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر ہندوئوں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے سرکاری ملازمت میں دیکھوتو تمام بڑے بڑے عہدے علی العموم ہندوئوں کے قبضہ میں ہیں اور کیا مجال ہے کہ کسی مسلمان کو معمولی دفتر کی کلرکی میں بھی حتی الوسع رہنے دیں ہاں دفاتر کے چپڑاسی اور فراش مسلمان رکھ لئے جاتے ہیں پھر مقدمات میں مسلمانوں اور بالخصوص احمدیوں کے ساتھ ہندو مجسٹریٹوںکا جو سلوک ہے وہ چندو لعل اور آتمارام کے مقدمات کرنے سے ظاہر ہے کہ وہ مقدمہ جس کو ایک انگریز نے بغیر اس کے کہ ہمارے امام بلکہ اس کے خدام کو بھی کوئی تکلیف ہو ایک ہی روز میں فیصلہ کر دیا گیا اس پر ان لوگوں نے دوسال تک گورداسپور کی آمد ورفت کی جو تکلیف حضرت امام اور آپ کے خدام کو دی وہ تاریخ ز مانہ میں ایک یادگارر ہے گی۔غرض ہمارے لئے تو امن کی اور کوئی صورت گورنمنٹ برطانیہ کے ماتحت رہنے سے بڑھ کر ہے نہیں اور اس کے شکریہ میں ہمارے امام نے جو تحریریں آج تک شائع کی ہیں ان سب کو ایک جگہ جمع کیا جاوے تو ایک ضخیم کتاب بن سکتی ہے۔(البدر ۲۳؍مئی ۱۹۰۷ء صفحہ۷،۸) ٭…٭…٭