خطابات نور — Page 217
عورتوں کووعظ {تقریر فرمودہ ۱۴؍جولائی ۱۹۰۳ء بعد نماز عصر} (الاحزاب :۲۹) یہ آیتیں قرآن شریف کے ۲۱ پارہ کے اخیر اور ۲۲ پارہ کے ابتدا کی ہیں ان میں خدا نے ایک گھر والیوں کو وعظ فرمایا ہے۔اس گھر اور اس واعظ کا وعظ اور جن بیبیوں سے اس واعظ کا تعلق ہے اس کا ذکر فرمایا ہے۔اس سے میری عرض یہ ہے کہ واعظ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور وہ وہ گرامی ذات ہے جس کے لئے دنیا کو یہ حکم ہوا کہ (اٰل عمران :۳۲) کہ اگر تم کو یہ منظور ہے کہ خدا کے محبوب بنو تو اس کی اتباع کرو۔جب انسان کسی کا پیارا بنتا ہے تو پیار کرنے والا اپنے پیارے کی تکلیف کو پسند نہیں کرتا۔اگر کسی غلطی کی وجہ سے وہ کسی تکلیف میں ہو تو اس کی تکالیف کو دور کرتا ہے۔مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ محبوب کی تکلیف دیکھتے اور اس کو دور نہیں کر سکتے۔اس لئے کہ ان میں طاقت دور کرنے کی نہیں ہوتی مگر خدا تو کامل قدرت اور کامل علم والا ہے۔پس خدا نے فرمایا کہ اگر تم کو مجھ سے تعلق ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو پھر تم میرے محبوب بن جائو گے۔جب تم اس کے محبوب بن جائو گے تو ہر ایک قسم کے سامان تمہارے لئے اللہ تعالیٰ مہیا کرے گا۔بس اللہ تعالیٰ نے اس پاک بندے سے گھر میں وعظ کروایا اس لئے کہ ہم اس پر عمل کر کے فضل اور ابدی آرام حاصل کریں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے وعظ کیا اور اپنی بیبیوں کو سنایا وہ بیبیاں کیسی تھیں (النّور :۲۷) پس ان بیبیوں کو وعظ سنایا۔ہم کو اتباع کا حکم ہے۔اس لئے یہ وعظ مجھ کو دو طرح سنانے کے لئے مامور کیا جاتا ہے۔پہلے رسول اللہ کے اتباع کا حکم دوسرے اس سچے اور حقیقی نائب اور خدا کے پاک بندے نے حکم دیا ہے کہ میں تم کو وعظ سنائوں۔