خطابات نور — Page 218
اب بتاتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا وعظ کیا اور کیا وہ وعظ خود کیا یا خدا کے ارادہ سے کیا۔اس میں خدا کا ارشاد یہی تھا کہ وعظ سنائو۔اس سے ہم کیا فائدہ اٹھائیں۔سنیں اور سنائیں اور اس کے اغراض پر غور کر کے عمل کریں۔آجکل دنیا میں ایک بیماری ہے نہ صرف عورتوں میں بلکہ مردوں میں بھی کہ جب ہم کسی راستباز کے اعمال‘ احکام اور چال چلن بیان کرتے ہیں تو اس وقت بہت لوگ شیطانی اغوا سے کہہ دیتے کہ یہ کام ہم سے نہیں ہو سکتا نہ ہم رسول اور نہ رسول کی بی بی۔میرے نزدیک یہ کہنا کفر ہے اور خدا پر بھی الزام آتا ہے۔اس لئے کہ اگر ہم سے ان احکام کا نباہ نہیں ہو سکتا تو کیا خدا نے کوئی لغوحکم دیا ہے۔پھر جب خدا نے نبی کی اتباع کا حکم دیا ہے جبکہ ہم وہ کام کر ہی نہیں سکتے تو ہمیں ان کی اتباع کا حکم کیوں ملا ؟میرا ایمان ہے کہ جن احکام کا متبع خدا نے ہم کو بنایا ہے ہم ضرور کر سکتے ہیں اور جن سے روکا ہے ان سے ہم رک سکتے ہیں۔پس میں یقین کرتا ہوں کہ خدا نے جو حکم دئیے ہیں ان کو ہم کر سکتے اور اس کے موانعات سے ہم رک سکتے ہیں۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیبیاں جب مدینہ میں تشریف لائے تو مدینہ میں کوئی مکان‘ باغ‘ زراعت یا تجارت کا سامان نہ تھا اور سب کو ایک گو نہ تکلیف تھی اور وہ اس قسم کی تکلیف نہ تھی جیسے آجکل لوگوں کو لنگر سے کھانا ملتا اور مہمان خانہ میں چار پائی ملتی۔بلکہ اس وقت ان چیزوں میں سے کچھ بھی نہ ملتا تھا۔پھر ایک شریر قوم یہود نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت چھیڑ کی یعنی دس ہزار آدمی کو باہر سے چڑھا کر لائے اور اندر سے خود تباہ کرنا چاہا۔مگر خدا نے ان باہر والوں کو بھگا دیا اور یہود کو اس پاداش میں ہلاک کیا۔اور ان کے کل اموال آنحضرتؐ کے سپرد کئے۔اس پر کمزور طبائع کی عورتوں کو خیال آیا کہ اب ہمیں آسائش ہو جاوے گی۔اس پر یہ حکم آیا کہ اے نبی اپنے گھر والوں سے کہہ دو کہ اگر تمہارا اصل منشاء دنیا والی زندگی اور اس کی زیب وزینت کا خیال ہے تو آئو ہم تمہیں کچھ دے کر علیحدہ کردیتے ہیں اور اگر یہ منشاء ہے کہ خدا راضی ہو اس کا رسول راضی ہو آئندہ سکھ پائو تو یاد رکھو کہ خدا کسی کا اجر ضائع نہیں کرتا۔اے نبی کی بیبیو! اگر تم میں سے کوئی بدی کا ارتکاب کرے گی تو اس کو دوہرا عذاب ملے گا۔اور یہ بات خدا پر آسان ہے او رجو کوئی تم میں سے خدا اور رسول کی اطاعت