خطابات نور — Page 216
پروانہ وار اس پر گرتے ہیں اس کا باعث یہی ہے کہ وہ کتاب اللہ کا سچا حامی ہے اور رات دن دعائوں میں لگا ہوا ہے۔اس لڑکے سے بڑھ کر کوئی خوش قسمت نہیں۔جس کے لئے یہ دعائیں ہوں۔مگر ان باتوں کو وہی سمجھتا ہے جس کی آنکھ بینا اور کان شنواہو۔کی صدایوسفؑ کے کان میں پڑی اس سے سوچوکہ خدا کا فضل ساتھ ہو تا ہے تو کوئی دشمن ایذا نہیں پہنچا سکتا کس طرح کے جاہ و جلال اور بحالی یوسف ؑکو ملی اور سب سے عجیب بات یہ کہ ان بھائیوں کو آخر کہنا پڑا(یوسف:۹۸) اس کا جواب یوسف ؑنے دیا(یوسف:۹۳)۔یہ سب کچھ اللہ پر یقین کا نتیجہ تھا تم بھی اللہ پر کامل یقین کرو اور ان دعائوں کے ذریعے جو کہ دنیا کی مخالفت میں ِسپر ہیں فضل چاہو۔کتاب اللہ کو دستورالعمل بنائو تاکہ تم کو عزت حاصل ہوباتوں سے نہیں بلکہ کاموں سے۔اپنے آپ کو اس کتاب کے تابع ثابت کرو۔ہنسی ، تمسخر ،ٹھٹھا ، ایذا، گالی یہ سب اس کتاب کی تعلیم کے برخلاف ہے، جھوٹ سے ، لعنت سے ،تکلیف اور ایذادینے سے ممانعت اور لغو سے بچنا اس کتاب کا ارشاد ہے صوم اور صلوٰۃ اور ذکر شغل الٰہی کی پابندی اس کا اصول ہے۔تمہاری تربیت کی ابتدائی حالت ہے اگر چہ تربیت کرنے والے اس قابل نہیں ہیں کہ تم کو اعلیٰ منازل تک پہنچائیں مگر کوئی کمزوری اور نقص اگر انتظام میں ہے تو اس کی اصلاح تمہارے ہی ہاتھ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (الانعام:۱۳۰) یعنی اس طرح ہم ظالموں پر ظالموں کوولی کرتے ہیں تا کہ اپنے اعمال کا نتیجہ بھوگیں۔پھر فرماتا ہے(الرعد:۱۲) پس اپنی اصلاح میں لگو کہ مصلح تمہارا متولی ہواللہ تعالیٰ تم کو توفیق دے کہ فضل خدا کا سایہ تم پر ہو اس کی کتاب تمہارا دستور العمل ہو کرۂ زمین پر عزت سے زندگی بسر کرو دنیا کے لئے نمک نور اور ہدایت ہو جائو اپنی کمزوریوں کے لئے دعا کرو اپنے حکمرانو ں کے لئے دعا کرو اور کوشش کرو کہ یوسف ؑکی طرح بن جائو۔آمین (الحکم ۲۴؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ۱۱،۱۲) ٭…٭…٭