خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 215 of 660

خطابات نور — Page 215

بشارت پیارے عبدالکریم (سیالکوٹی۔ناقل)نے دی ہے۔وہ کیا ہے حضرت صاحب کی دعائیں ہیں میں ان دعائوں کو کیا سمجھتا ہوں یہ بہت بڑی بات ہے اور یقینا تمہارے ادراک سے بالاتر ہوگی مگر میں کچھ بتلاتا ہوں۔مخالفتوں سے انسان ناکامیاب ہوتا ہے گھبراتا ہے ایک لڑکا ماسٹر کی مخالفت کرے تو اسے مدرسہ چھوڑنا پڑتا ہے۔جس قدر مہتمم مدرسہ کے ہیں اگر وہ سب مخالفت میں آویں تو زندگی بسر کرنی مشکل ہو۔اگرچہ افسر بھی لڑکوں کے محتاج ہیں مگر ایک ذرہ سے نقطہ سے اسے بورڈنگ میں رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔اب اس پر اندازہ کرو کہ ایک کی مخالفت انسان کو کیسے مشکلات میں ڈالتی ہے۔لیکن ہمارے امام کی ساری برادری مخالف ہے رات دن یہی طاق ہے کہ اسے دکھ پہنچے پھر گائوں والے مخالف حالانکہ ان کو نفع پہنچتا ہے۔میںنے ایک شریر سے پوچھا کہ مرزا صاحب کے طفیل تمہاری کتنی آمدنی ہو گئی ہے تو کہا بیس روپے ماہوار زیادہ ملتے ہیں علی ہذاالقیاس ان گدھے والوں اور مزدوروں سب سے دریافت کرو تو یقین ہوگاکہ ان کے واسطے ہمارا یہاں رہنا کیسا بابرکت ہے مگر ان سب کے دلوں میں ایک آگ بھی ہماری طرف سے ہے باوجود ہم سے متمتع ہونے کے پھر بھی ان کے اندر ایک کپکپی ہے کہ یہ یہاں کیوں آگئے۔ابھی ایک مینار بن رہا ہے۔اگر کوئی میرے جیسا خلیق ہوتا تو راستہ کو توڑ کر مینار ایک کونہ میں بناتا مگر اس مجسم رحم انسان (مرزا غلام احمد )نے اسے مسجدکے اندر بنایا کہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔ان لوگوں کو غیرت نہیں آتی کہ کیا ان دور دراز سے آنے والوں کی عقل ماری گئی ہے کہ دوڑ ے چلے آرہے ہیں۔یہ کہاں کے فلاسفر ہوئے جو ایسی بات کرتے ہیں ؟کیا ان کے تجارب ہم سے زیادہ ہیں یا معلومات میں ہم سے بڑھ کر ہیں ؟شرم کے مارے کچھ جواب تو نہیں دے سکتے۔یہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں کی مت ماری گئی ہے کہ روپیہ اپنا کھاتے ہیں اور یہاں رہتے ہیں۔یہ حال تو گائوں کی مخالفت کا ہے۔پھر سب مولوی مخالف، گدی نشین مخالف ،شیعہ مخالف، سنی مخالف، آریہ مخالف ، مشنری مخالف ، دہریوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا مگر وہ بھی مخالف اور نہایت خطر ناک دشمن اس سلسلہ کے ہیں۔ان تمام مشکلات کے مقابلہ میں دیکھو وہ (حضرت مرزا صاحب )کیسے کامیاب ہے۔کیا تمہارا دل نہیں چاہتا کہ تم اس طرح کامیاب ہو۔یہاں ہمارا رہنا تمہارا رہنا سب اسی کے نظارہ ہیں کہ باوجود اس قدر مخالفت کے پھر